اپ ڈیٹ: 22 April 2018 - 22:51
غزہ میں پچھلے آٹھ روز سے جاری واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کے حملے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تیس سے تجاوز کر گئی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایک بار پھر سلامتی کونسل میں اس بل کو ویٹو کر دیا ہے جس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
خبر کا کوڈ: ۱۰۷۷
تاریخ اشاعت: 23:31 - April 07, 2018

اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، غزہ اور غرب اردن میں فلسطینیوں کے واپسی مارچ کا سلسلہ دوسرے ہفتے بھی جاری ہے اور جمعے کے روز ہونے والے مظاہرے پر غاصب صیہونی فوجیوں نے فائرنگ کی جس میں مزید دس فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

اس طرح تیس مارچ کو واپسی مارچ کے آغاز سے تک صیہونی فوجیوں کی فائرنگ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد اکتیس ہوگئی ہے جبکہ تین ہزار کے قریب فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تینتس کی حالت تشویشناک ہے۔

گذشتہ جمعے کو بھی ہزاروں فلسطینیوں نے یوم الارض کے موقع پر اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے پرامن ریلی نکالی تھی جس پر صیہونی فوج نے اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔ پرامن فلسطینیوں پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ میں بیس سے زائد فلسطینی شہید اور دو ہزار دیگر زخمی ہوئے تھے۔

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کی شہادت اور صیہونیوں کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے ایک بار پھر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے صیہونی جارحیت روکنے اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کا مطالبہ کیا۔

ادھر اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے سلامتی کونسل پر فلسطینیوں کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ریاض منصور کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل نے اپنی ذمہ داریوں سے شانے خالی کر دیئے ہیں جس کے نتیجے میں اسرائیل کو فلسطینیوں کے قتل عام کی مزید شہہ مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم غزہ میں اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کے خواہاں ہیں اور بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام رکوانے کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اسرائیل کے خلاف شکایت دائر کریں گے۔

تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹیو کونسل کے سیکریٹری صائب عریقات نے بھی کہا ہے کہ امریکہ نے فلسطینی عوام کے خلاف اپنی دشمنی کو عیاں کردیا ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کے مخاصمانہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے بارے میں نکی ہیلی کے احمقانہ بیان پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف بیان کو ویٹو کردیا ہے جس میں فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

صائب عریقات نے کہا کہ امریکہ ایک جانب بچوں کے حقوق کا دم بھرتا ہے اور دوسری جانب سے فلسطینی بچوں کے قتل عام کی توجیہ اور اسے اسرائیل کا فطری حق قرار دیتا ہے۔

فلسطینی عہدیداروں کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی ہمہ گیر حمایت اور سعودی، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات جیسے بعض عرب ملکوں کے تل ابیب کے ساتھ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں