اپ ڈیٹ: 12 December 2018 - 17:01
شامی فوج نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے بزدلانہ حملے کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور دسیوں میزائلوں کو مار گرایا ہے۔ دوسری جانب روسی صدر نے شام پر حملے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والے خود مختار ملک پر جارحیت قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۱۹۸
تاریخ اشاعت: 13:54 - April 15, 2018

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا حملہ بزدلانہ ہے، شامی فوجمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، دمشق میں شامی فوج کی مشترکہ کمانڈ کے جاری کردہ بیان میں امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے مشترکہ میزائل حملوں کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان حملوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور شامی فوج پورے عزم کے ساتھ ملک کی ارضی سالمیت اور عوام کی جان و مال کا تحفظ کرتی رہی گی

۔بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج کے ایئر ڈیفینس یونٹوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے فائر کیے جانے والے دسیوں میزائلوں کو فضا میں تباہ اور ان کے راستے منحرف کردئے تاہم کچھ میزائل بعض جگہوں پر لگے ہیں جن میں ایک تحقیقاتی مرکز بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا ہے۔روس کی وزارت دفاع نے بھی کہا ہے کہ شامی فوج نے سام تھری اور سام فائیو میزائلوں کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا مقابلہ کیا اور  بہت سے میزائلوں کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا ہےروس کے صدر ولادی میر پوتین نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ایک خود مختار ملک کے خلاف جارحیت قررا دیا ہے۔

روسی صدر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے اس حملے کے عالمی تعلقات پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں شام میں انسانی صورتحال مزید ابتر ہوجائے گی۔روسی صدر نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے شام پر کئے گئے حملے کا جائزہ لینے کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔روسی وزارت خارجہ نے اپنے پہلے باضابطہ ردعمل میں کہا ہے کہ شام پر امریکی حملہ سیاسی  حل کی کوششوں پر حملہ ہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخا رووا نے بھی کہا ہے کہ امریکہ نے ایسے ملک پر حملہ کیا ہے جو سات سال سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بعد معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا۔انہوں نے دنیا کی اخلاقی لیڈر شپ کے مغربی دعوے پر سوالیہ نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پندرہ سال قبل ایک بوتل کا ڈرامہ رچا کر عراق پر حملہ کیا تھا اور آج اس نے میڈیا کا حربہ استعمال کرکے شام پر حملہ کیا  ہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا  کہ امریکی ذرائع ابلاغ جس کیمیائی حملے کا شور مچارہے ہیں اس کی فوٹیج اور تصاویر سوشل میڈیا پر نامعلوم اور مشکوک ذرائع  سے لوڈ کی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ برطانیہ اور فرانس نے ہفتے کی صبح   شام پر  کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے دوما میں انجام پانے والے مشکوک کیمیائی حملے کو بہانا بنا کر کیا گیا ہے۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں