اپ ڈیٹ: 18 June 2018 - 23:38
امریکی تھنک ٹھینک "میمری" نے بنی سعود کے ذرائع ابلاغ کی مانیٹرنگ سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ زیادہ تر سعودی دانشوروں کا خیال ہے کہ ایران اور یہودی ریاست کے درمیان عسکری تصادم کی صورت میں وہ یقینا یہودی ریاست کی حمایت کریں گے۔
خبر کا کوڈ: ۱۵۶۶
تاریخ اشاعت: 23:27 - June 11, 2018

ایران ـ اسرائیل کی دشمنی میں سعودی حکمرانوں کی تل ابیب کی حمایت کو ترجیحمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، امریکی تھنک ٹینک “مشرق وسطی میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (Middle East Media Research Institute [MEMRI])” نے سعودی ابلاغی اداروں کی پالیسی میں تبدیلی اور ان ایران دشمنی اور یہودی ریاست کی حمایت پر مبنی پالیسی کے سلسلے میں اپنے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ شام میں بعض چبقلشوں اور ایران کے ساتھ تل ابیب کے تناؤ میں اضافہ سعودی دانشوروں اور ذرائع ابلاغ کے درمیان اس موضوع پر بحث و مباحثے کا سبب بنا ہے کہ "ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ کی صورت میں وہ کس کی حمایت کریں گے؟"

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ادارے نے لکھا ہے کہ بہت سے سعودی دانشوروں کا کہنا تھا کہ تہران اور تل آویو کے درمیان عسکری تصادم کی صورت میں وہ یقینی طور پر اسرائیل کی حمایت کریں گے۔

اس رپورٹ میں ایران فوبیا کی امریکی ـ یہودی پالیسی کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ شام میں ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی، یمن کی جنگ اور ایران کی طرف سے حوثیوں کی حمایت ـ جو سعودی مفادات کو راکٹوں کا نشانہ بناتے ہیں ـ سب سعودی عرب کے لئے عینی خطرات ہیں جبکہ دوسری طرف سے یہودی ریاست نہ صرف سعودی عرب کے لئے خطرہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایران کے ساتھ تقابل کی صورت میں بنی سعود کی حمایت کرسکتی ہے۔

امریکی ادارے نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے: سعودی دانشور، صحافی اور لکھاری شدت کے ساتھ اور اعلانیہ طور پر یہودی ریاست کی حمایت کرتے ہیں اور اس ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور صلح و آشتی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی دانشوروں اور صحافیوں نے غزہ اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں اور واپسی کی تحریک کے سلسلے میں ہونے والے مظاہروں کے سلسلے میں بھی اسرائیل کی اعلانیہ حمایت کی ہے اور کچھ نے تو حماس تحریک اور ایران کو ان واقعات میں قصوروار تک ٹہرایا ہے۔

میمری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “اس بات کی یاددہانی کرانا ضروری ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کی حمایت کررہا ہے، یہاں تک کہ جون 2017 میں سعودی اخبار “الریاض” کے تجزیہ نگار "موسی عبدالعصیمی” نے عربوں سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل مخالف پالیسیاں ترک کریں اور ایران کو اپنا حقیقی دشمن سمجھ کر اپنی توجہ اس پر مرکوز کر لیں۔"

میمری نے آخر میں لکھا ہے کہ: گذشتہ سال بھی یہودی ریاست اور سعودی ریاست کے درمیان بہتر تعلقات پر مبنی بےشمار رپورٹیں منظر عام پر آئیں اور یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے سلسلے میں ٹرمپ کی “صدی کے ڈیل” نامی منصوبے میں سعودی ریاست نے بہت اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

میمری نامی امریکی ادارے نے سعودی تجزیہ نگاروں اور ٹویٹر صارفین کی متعدد ایران مخالف یادداشتوں کا حوالہ دیا ہے۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں