اپ ڈیٹ: 16 November 2018 - 19:09
غیر ملکی ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں کرپشن الزامات کے تحت گرفتار کیے گئے مزید 2 شہزادوں کو بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲
تاریخ اشاعت: 8:18 - December 30, 2017

سعودی شہزادوں کی بڑے بڑے رقوم کی ادائیگی کے بعد رہائیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہائی پانے والوں میں شہزادہ مشعال بن عبداللہ اور شہزادہ فیصل بن عبداللہ شامل ہیں دونوں شہزادوں کو بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا ہے۔


خیال رہے کہ دونوں شہزادے سعودی عرب کے سابق فرماں روا شاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں اور انہیں دارالحکومت ریاض کے کارلٹن ہوٹل میں قید کیا گیا تھا جبکہ شاہ عبداللہ کے تیسرے بیٹے شہزادہ ترکی بن عبداللہ زیر حراست ہیں، شہزادہ ترکی بن عبداللہ کی رہائی سے متعلق اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔


واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی حکومت نے اینٹی کرپشن کمیٹی بنا کر شہزادہ الولید بن طلال سمیت 11 شہزادے اور 4 وزرا سمیت درجنوں اعلیٰ حکام کو گرفتار کرلیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں دنیا کا مالدار ترین سعودی شہزادہ ولید بن طلال بھی ہیں جوسعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی قید میں ہے ولید بن طلال سے ولیعہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ وہ 6 ارب ڈالر ادا کرکے آزاد ہوسکتے ہیں تاہم ولید بن طلال نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانونی جنگ لڑیں گے۔


عرب ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے سرکاری خزانے کو بھرنے کا اچھا طریقہ تلاش کیا ہے سعودی عرب کے ولیعہد مخالفین پر کرپشن کے الزامات عائد کرکے ان سے موٹی رقمیں وصول کررہے ہیں۔

سعودی عرب کے ولیعہد نے درجنوں شہزادوں کو کرپشن کے الزامات میں جیل میں بند کر رکھا ہے جبکہ خود سعودی عرب کے ولیعہد بھی کرپشن کے کئی واقعات میں براہ راست ملوث ہیں لیکن ان سے کوئی کچھ پوچھنے والا نہیں۔


باخبـر ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد کے اس منصوبے میں بعض امریکی شخصیات بھی شامل ہیں کیونکہ سعودی عرب میں ہونے والی تمام گرفتاریاں امریکی حکام کے اشارے پر ہوئی ہیں۔

پیغام کا اختتام/

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں