اپ ڈیٹ: 09 December 2018 - 23:46
امریکا کی نئی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کے حوالے سے سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی میں امریکی حکام اور پارلیمانی وفد نے اعتراف کیا کہ اسلام آباد کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام ناممکن ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۹۷
تاریخ اشاعت: 11:54 - February 10, 2018

امریکہ کا پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں ناکامی کا اعترافمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد روک کر دباؤ ڈالنے کا حربہ بری طرح شکست سے دوچار ہوا اور اسلام آباد تاحال اپنی پالیسی پر گامزن ہے۔

کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین سینیٹر رابرٹ کروکر نے پاکستان کی عسکری امداد روکنے کے فیصلے کی بھرپور تائید کی۔ سینیٹر نے کہا کہ جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور دیگردہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا رہے گا، اس وقت تک پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی عسکری امداد پر پابندی رہےگی۔ دہشت گرد عام شہریوں سمیت امریکی اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

دوسری جانب کمیٹی میں موجود سینیٹربین کارڈن نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کی عسکری امداد روکنے سے کوئی تبدیلی آئی جس پر ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ جان سلیوان نے جواب دیا کہ یقینا پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس لیے ہم اسے حتمی اور ناقابل تنسیخ سمجھیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات، امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں سے متعلق بیان کے بعد سخت کشیدہ ہو گئے اور پاکستان نے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں