اپ ڈیٹ: 24 June 2019 - 09:42
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی تشویش بڑھتی جارہی ہے، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جمہوری حکمرانوں اور انسانی حقوق علمبردار تنظیموں کی خاموشی افسوسناک ہے۔
خبر کا کوڈ: ۳۸۶۵
تاریخ اشاعت: 10:12 - April 28, 2019

لاپتہ افراد کے مسئلے پرحکومتی بے حسی لمحہ فکریہ ہے: مجلس وحدت مسلمینمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ مختاراحمد امامی نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ہم نے ہر فورم پر لاپتہ افراد کے مسئلے کو اٹھایا ہے ہماری جماعت اور قیادت ان بے گناہ افراد کے لواحقین کے ساتھ ہے، ہم کسی مجرم یا ملک دشمن کی حمایت نہیں کرتے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملک میں کسی غیر آئینی و غیر قانونی اقدام کی بھی تائید نہیں کریں گے، حکومت ملک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف فوری موثر اقدامات اٹھائے بصورت دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین ہر قسم کے جمہوری و آئینی احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

علامہ مختار امامی نے کہا کہ ظالم اور مظلوم کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا عمل بند کیا جائے۔

علامہ مختارامامی نے کہا کہ ملت جعفریہ کے پچیس ہزار سے زائد شہداء کے لواحقین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومتیں کفر سے تو باقی رہ سکتی ہیں مگر ظلم سے نہیں۔

علامہ مختارامامی نے حکومت سےمطالبہ کیا کہ ہمارے گمشدہ افراد کو بازیاب کرایا جائے، اگران میں سے کوئی کسی بھی جرم میں ملوث ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں