اپ ڈیٹ: 19 June 2019 - 08:11
امریکی نیوز ایجنسی سی این این نے خبردی ہے کہ وائٹ ہاؤس نے سوئیزرلینڈ کو ایک ٹیلی فون نمبر دیا ہے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران اس کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کرسکے۔
خبر کا کوڈ: ۳۹۱۲
تاریخ اشاعت: 20:12 - May 11, 2019

ایران سے مذاکرات کے لئے ٹرمپ کا اصرارمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سی این این نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے سوئیزرلینڈ کو ایک ٹیلی فون نمبردیا ہے تاکہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام امریکی صدر ٹرمپ سے رابطہ کرنا چاہیں تو ہر چیز مہیا رہے۔

یہ خبر ایک ایسے وقت آئی ہے جب جمعرات  کی شام امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے میں خیال میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایرانی حکام انہیں ٹیلی فون کریں گے۔

سی این این کا کہنا ہے کہ سوئیزرلینڈ یہ ٹیلی فون نمبر ایران کو نہیں دے گا مگر برفرض محال یہ کہ تہران ٹرمپ سے رابطہ کرنے کے لئے تیار ہوجائے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں ایران سےمذاکرات کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ جو کام ایرانیوں کو انجام دینا ہے وہ یہ کہ  ہمیں فون کریں اور مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور ہم ایک ڈیل پر پہنچ سکتے ہیں اور ایک منصفانہ ڈیل پر۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ایرانی حکام ہم سے رابطہ کریں۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کیا کہ امریکا کے سابق وزیرخارجہ جان کیری نے ایرانیوں سے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ سے رابطہ نہ کریں۔

ٹرمپ نے پہلے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی اور مذاکرات کی یہ خواہش ایک ایسے عالم میں ظاہر کی ہے جب انہوں نے امریکا کے وعدوں کے برخلاف ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان اور تہران کے خلاف پابندیاں دوبارہ عائد کردیں۔

اب ایک بار پھر ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی پیشکش اس صورت میں کی ہے کہ انہوں نے ایک روز قبل ہی ایرانی عوام کے خلاف اپنی مخاصمانہ روش کو جاری رکھتے ہوئے ایران کی دھات کی صنعت لوہے،  تانبے، المونیم اور اسٹیل کی برآمدات پر پابندی لگادی ہے۔

دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے  ایٹمی معاہدے کی امریکا کی جانب سے مسلسل خلاف ورزی اور یورپ کی طرف سے وعدوں پر عمل نہ کئے جانے کے بعد گذشتہ بدھ آٹھ مئی کو معاہدے کی بعض شقوں پر ایران کی جانب سے عمل درآمد کو رو ک دینے کا اعلان کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ہم معاہدے کے سلسلے میں جن اقدامات کو انجام دیتے رہے ہیں ان میں سے دو کو روک رہے ہیں اور یہ دونوں اقدام بہت ہی سادہ اور آسان زبان میں یہ ہے کہ جب بھی افزودہ یورینیم کی مقدار تین سو کلوگرام تک پہنچ جاتی تھی  تو اس کے بعد سبھی اضافی افزودہ یورینیم کو ہم فروخت کردیا کرتے تھے اور اس کے عوض یلو کیک وصول کرتے تھے لیکن اب آج کے  بعد سے یہ سلسلہ بند ہوگیا ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں