اپ ڈیٹ: 21 August 2018 - 06:16
ایران کے وزیر خارجہ نے تہران میں دوسرے سکیورٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علاقائی ممالک کی ارضی سالمیت اور قومی اتحاد پر تاکید کرتے ہوئےکہا کہ عراق اور شام میں لسانی اور قومی مسائل کو علیحدگی کیلئے ہوا دینا علاقے اور دنیا کے لئے خطرناک ہے۔
خبر کا کوڈ: ۴۸
تاریخ اشاعت: 14:24 - January 08, 2018

عراق اور شام میں لسانی اور قومی مسائل علاقے اور دنیا کے لئے خطرناکمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے آج صبح تہران میں دوسرے سکیورٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امریکی مداخلت اور پالیسی بنیادی چیلنجز ہیں جن کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ، شام میں اپنی غیر قانونی موجودگی سے خطرناک اور کشیدگی پر مبنی پالیسی کو جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطین پر قبضہ بدستور ایک اہم مسئلے میں بدل گیا ہے جس سے خطہ اور پوری دنیا متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے قدس کو غاصب اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان واضح طور پر مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے دشمنی اور انتہا پسندوں اور د دہشتگردی کو دعوت دینا ہے۔

محمد جواد ظریف نے یمن پر جاری سعودی جارحیت کو علاقے کے حالات کو خراب کرنے کی ایک اور اہم وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جارحین کو 33 مہینے کی لا حاصل جنگ کے بعد اس نتیجے پر پہنچ جانا چاہئیے  کہ اس مسئلے کا حل فوجی طریقے سے نہیں ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے  علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے ہمسایہ ممالک کے حالات کو نا امن کر کے امنیت حاصل نہیں کر سکتا۔

محمد جواد ظریف نے  اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ داعش اور اس جیسی دیگر جماعتیں سرگرم ہیں کہا کہ نئے علاقوں میں اس قسم کے گروہوں کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ اس قسم کی فکر اور سوچ کو  کا قلع قمع کیا جائے اور ان کی مالی امداد کو روکنے اور اس قسم کی خطرناک سوچ کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ آج دارالحکومت تہران میں 49 ممالک کے اعلی حکام، نمائندوں اور اہم شخصیات کی شرکت سے دوسری سکیورٹی کانفرنس شروع ہوئی۔

پیغام کا اختتام/

 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں