ونیزویلا کے خلاف سلامتی کونسل میں امریکی منصوبہ ناکام

ونیزویلا کے خلاف سلامتی کونسل میں امریکی منصوبہ ناکاممقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، چین اور روس نے ہفتے کی شب سلامتی کونسل کے اجلاس میں ونیزویلا کے مخالف رہنما خوان گوآئیڈو کی حمایت میں امریکہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودہ قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

امریکہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودہ قرارداد میں ونیزویلا میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے صدر مادورو کی حکومت پر مخالفین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس نے چین کے ساتھ مل کر امریکہ کی پیش کردہ مسودہ میں مندرجہ بالا تمام عبارتوں کو ختم کرا دیا اور یوں اس قرارداد کی منظوری کا راستہ بند ہو گیا۔

اقوام متحدہ میں روسی مندوب ویسیلی نبنزیا نے ونیزویلا کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ونیزویلا میں بغاوت کی حمایت کر رہا ہے۔

اس کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیؤ نے ونیزویلا کے حکومت مخالف رہنما کو اس ملک کا صدر قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے ان کی حمایت کا مطالبہ کیا لیکن ان کی یہ اپیل بری طرح ناکام ہو گئی۔

سلامتی کونسل کی رکن دو عالمی قوتوں یعنی چین اور روس کے ساتھ امریکہ کی محاذ آرآئی کو یونی لیٹرل ازم اور ملٹی لیٹرل ازم کے درمیان جنگ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ماسکو اور چین کے ساتھ واشنگٹن کی محاذ آرائی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ پچھلے چند پرس کے دوران اہم عالمی مسائل اور خاص طور سے  بحران شام کے حوالے سے بارہا ایسی کشمکش کا مشاہدہ کیا جاتا رہا ہے۔

در حقیقت امریکہ ابھی تک خود کو سابق سویت یونین کے زوال کے بعد کا واحد عالمی سپر پاور سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ عالمی قوانین اور ضابطوں کو امریکی مفادات کے مطابق ڈھالا جائے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک اس بات کے پابند بھی رہیں کہ واشنگٹن کی پالیسیوں کی بے چون و چرا پیروی کریں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکہ میں یونی لیٹرل ازم کی سوچ میں بے تحاشہ شدت پیدا ہوئی ہے اور سیاسی، تجارتی اور سیکورٹی کے نام پر واشنگٹن نے ایسی پالیسیاں اپنائی جن کی عالمی سطح پر مخالفت کی جا رہی ہے۔

اس وقت عالمی سطح پر روس اور چین ایسے ممالک ہیں جو امریکی اقدامات اور پالیسیوں کے لیے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں اور وہ اس بات کو بخوبی محسوس کر رہے ہیں کہ ٹرمپ  کے اقدامات دنیا میں ملٹی لیٹرل ازم اور اقوام متحدہ کے کلیدی کردار کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔