ایران اور شام کے صدور کی ٹیلی فونی گفتگو

ایران اور شام کے صدور کی ٹیلی فونی گفتگومقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے شام کے صدر بشار اسد کو فون کرکے اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام کی حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے -

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب دہشت گرد گروہ ہر روز شکست کھاتے جارہے ہیں شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کاحملہ یقینی طور پر شکست خوردہ دہشت گردوں کی حمایت کے لئے کیا گیا ہے -

انہوں نے شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شام کی جغرافیائی حدود میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کسی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے کہاکہ شامی حکومت کی اجازت کے بغیر اس ملک میں اغیار کی فوجی موجودگی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایک طرح سے اس ملک پر جارحیت ہے -

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہاکہ کوئی بھی بیرونی طاقت شام کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ نہیں کرسکتی اور اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق صرف شامی عوام کو ہے -

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شامی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہےگا ۔ شام کے صدر بشار اسد نے بھی اس ٹیلی فونی گفتگو میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفے صل اللہ علیہ وآلہ کی بعثت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت سے استقامت کی راہ جاری رکھنے میں شامی عوام اور حکومت کا عزم و ارادہ متزلزل نہیں ہوسکتا -

شام کے صدر نے اپنے ملک کے عوام کے لئے ایران کی حکومت اور عوام کی حمایتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ امریکا اور اس کے اتحادی جب سیاسی طریقوں سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے تو انہوں نےسبھی عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے شام پر حملہ کردیا -

پیغام کا اختتام/