سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے جدید ائیر ڈیفنس سسٹم نے آبنائے ہرمز کے پانیوں کی سطح پر MQ-9 ڈرون کو ٹریک کرنے کے بعد مار گرایا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے ملک میں تیار کیے جانے والے اعلیٰ معیار کے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کی بدولت حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں میں امریکی۔صیہونی جارح دشمن کو مؤثر اور کاری ضربیں پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر تاکید کی کہ انقلاب کے شہید رہبر اور شہید اسماعیل ہنیہ کے خون کا بدلہ لینا یقینی ہے اور ان بڑے جرائم کا جواب سخت اور فیصلہ کُن ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کی لاجسٹک سپورٹ کے نائب وزیر، بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابنالرضا نے کہا ہے کہ دشمن کے حالیہ بیانات اگرچہ نفسیاتی جنگ اور Calculative Warfare کے تناظر میں دیے جا رہے ہیں، تاہم ہماری نظر میں ہر دھمکی ایک حقیقی اور قابلِ توجہ خطرہ ہے۔
حدید 110 امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے لیے خطے میں ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ سینٹکام کے بیشتر فوجی اڈے ایران کی سرحد سے تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور یہ ڈرون ان اڈوں کے لیے مؤثر خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
حملوں کے باوجود جنگ بندی سے فائدہ اٹھا کر نئے ڈرون تیار کیے، امریکہ پر نئے ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے، فوج کے ترجمان
حضرت خاتم الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے اپنے ایک پیغام میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک کو امریکہ کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے، بصورتِ دیگر جو بھی ملک خود کو مجرم اور جارح امریکہ کے لیے دفاعی ڈھال بنائے گا، وہ جنگ کی آگ میں جل جائے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ سینٹکام کی گمراہ کُن ترغیبات سے متاثر ہو کر دو خلاف ورزی کرنے والے آئل ٹینکرز نے یہ سمجھا کہ وہ ہماری وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکی قاتل اور دہشت گرد فوج کی فضائی حفاظت میں غیر اعلان شدہ راستے سے غیر محفوظ اور غیر قانونی راستے سے آبنائے ہرمز عبور کر سکتے ہیں، تاہم انہیں نشانہ بنا کر روک دیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے کویت کے احمد الجابر اڈے میں امریکی دہشت گرد فوج کے اسٹریٹجک مراکز پر خودکش ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا۔
حالیہ دنوں میں امریکی دشمن کے خلاف ایران کی مسلح افواج کے بھرپور حملوں کے بعد اردن کی فضائی حدود سے ڈرونز اور میزائلوں کی محفوظ راہداری نے صیہونی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔