سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ خلیج فارس کو امریکی بحری جہازوں یا خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے لیے غیر محفوظ بنا سکتی ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے ایرانی آئل ٹینکروں کے خلاف دہشت گرد امریکی فوج کی جارحیت اور شر پسندی کے جواب میں ۲ امریکی جنگی بحری جہازوں، ۱۰ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں اور ۸ آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔
سپاہ پاسداران نے اعلان کیا: کروز اور ایجس میزائلوں سے لیس DDG-119 اور DDG-53 جنگی ڈسٹرائرز کو نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ اس مے اردن میں واقع امریکی الازرق اڈے کو اپنے شدید میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
مغربی ایشیا کے امور کے ماہر نے کہا: علی الطاہر پر اسرائیل کا تقریبی قبضہ، ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کیے جانے والے تاثر کے برخلاف، صیہونیوں کے لیے نبطیہ اور الجرمق کی گہرائیوں کی جانب راستے کو آسان نہیں بنا سکا۔ انڈر گراؤنڈ موجود سپاہی، قابض افواج کے لیے دائمی خطرہ ہیں۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے کہا: آج اسلامی جمہوریہ کے نظام کی میزائل اور ڈرون کے شعبے میں طاقت، مستحکم اور دائمی ہے۔ اس طرح کہ اگر ہمارے ملک کے گرد کنکریٹ کی دیوار اور خاردار تار لگا دی جائے، تب بھی وہ ہماری میزائل اور ڈرون کی تیاری کو نہیں روک سکتے۔
ڈیفنس منسٹر کے نائب سربراہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے ملک کے خلاف معاشی محاصرے میں شریک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پر تاکید کی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے اندرونی راستے پر ایک پیچیدہ انٹیلیجنس اور آپریشنل نگرانی کی کارروائی کے دوران دہشت گرد امریکی فوج کی جدید ترین سمارٹ اور انسانی رہنمائی کے بنا چلنے والی آبدوزوں میں سے ایک کو قبضے میں لینے کی اطلاع دی ہے۔
لبنانی تجزیہ کار نے کہا: معاملہ صرف ایک پہاڑی کا نہیں؛ علی الطاہر جنوبی لبنان کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑی جنگ کا حصہ ہے تا کہ یہ طے ہو سکے کہ اس حسّاس علاقے میں سیکیورٹی کے اعتبار سے فیصلہ کرنے کی طاقت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔
حضرت خاتم الانبیاءؐ سینٹرل ہیڈکوارٹر کے مشترکہ ائیر ڈیفنس کمانڈر نے ۴۰ روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران تیار کیے گئے مقامی ڈیفنس سسٹمز کے بارے میں کہا: اس ساز و سامان نے کامیاب ٹیسٹنگ مکمل کر لی ہے اور اب انہیں بڑے پیمانے پر تیار کیا جا رہا ہے تا کہ ملک بھر میں نصب کیا جا سکے۔