امریکہ کے دباؤ کے باوجود ایرانی قوم نے پسپائی اختیار نہیں کی، جنرل نقدی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، فریدون کنار شہر کے جنرلز اور 350 شہداء کی یاد میں منعقدہ 39ویں اجلاس کی تقریب میں شہداء کے معزز خاندانوں، عوام کے مختلف طبقات اور ملکی اور صوبائی حکّام نے شرکت کی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے مشیرِ اعلیٰ، جنرل محمد رضا نقدی نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان محاذ آرائی کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا اور بیرونی دباؤ اور دھمکیوں کا مقابلہ کرنے میں عوامی مزاحمت، قومی خود اعتمادی اور ملک کی دفاعی طاقت کے کردار پر تاکید کی۔
جنرل نقدی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی دباؤ اور ثقافتی جنگ ان ذرائع میں شامل ہیں جنہیں دشمن، اسلامی نظام کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے لیکن ان اقدامات کو ایرانی قوم کے عزم اور مسلح افواج کی طاقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے میں عوامی مزاحمت کے کردار پر تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ دشمن کے دباؤ کے نتیجے میں ایرانی قوم نہ صرف پسپائی اختیار کرنے پر مجبور نہیں ہوئی بلکہ اس سے قومی شعور اور عوام اقر قیادت کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔
سپاہ کے کمانڈر انچیف کے مشیرِ اعلیٰ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں مزاحمتی ثقافت میں مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت اور ثابت قدمی سے سبق حاصل کرنے کو اس راستے کے تسلسل کے عوامل میں سے ایک قرار دیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جانب سے ظلم و استبداد کے سامنے ثابت قدمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تاکید کی کہ ایرانی قوم بھی اسی عقیدتی اور ثقافتی نمونے پر بھروسہ کرتے ہوئے عالمی سامراج کی بالادستی پسندانہ خواہشات اور صیہونی حکومت کے اقدامات کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔
جنرل نقدی نے سافٹ وار اور ادراکی جنگ کا مقابلہ کرنے میں بھی اس نمونے کی اہمیت پر زور دیا اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت کی ثقافتی اور معنوی پشت پناہی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔
سپاہ کے کمانڈر انچیف کے مشیرِ اعلیٰ نے اسلامی انقلاب کے مختلف مراحل میں فریدون کنار شہر کے لوگوں کے سابقہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے شہداء پیش کرنے اور انقلابی کارکنوں کی تربیت میں اس شہر کے کردار کو ذکر کیا۔
انہوں نے دفاعِ مقدس کی تاریخ میں شہید حاج حسین بصیر کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے شہداء کے اجلاسوں کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا تا کہ ایثار اور شہادت کی ثقافت کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکے اور اسلامی انقلاب کی اقدار نئی نسلوں تک منتقل کی جا سکیں۔
جنرل نقدی نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں خطروں اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرون ملک صلاحیتوں پر انحصار کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے دفاعی طاقت برقرار رکھنے، قومی خود اعتمادی کو مضبوط بنانے اور ملک کی شناخت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر زور دیا۔
انہوں نے اندرون ملک صلاحیتوں، قومی اتحاد اور عقیدتی اقدار پر انحصار کو بیرونی دباؤ سے نکلنے کے اہم عوامل میں سے قرار دیا اور مستقبل میں درپیش خطروں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس حکمتِ عملی کو جاری رکھنے پر تاکید کی۔
