اپ ڈیٹ: 29 July 2021 - 03:34
ایران کے وزیر دفاع نے شام میں دہشت گردوں کی مکمل نابودی تک تہران اور ماسکو کے درمیان تعاون جاری رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۰۲۲
تاریخ اشاعت: 23:53 - April 04, 2018

دہشت گردی کے خلاف ایران روس تعاون جاری رکھنے پر زورمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماسکو میں روسی وزیر دفاع سرگئی شوئی گوو کے ساتھ ملاقات میں ایران کے وزیردفاع جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ تہران اور ماسکو نے دہشت گردوں کی نابودی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، روس سمیت اپنے تمام شرکا کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرتا رہے گا۔

جنرل امیر حاتمی نے دفاعی اور فوجی میدان میں ایران روس تعاون کی سطح کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران، ماسکو سیکورٹی کانفرنس کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اس نے اب تک ہونے والی تمام کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئی گوو نے اس موقع پر کہا کہ ایران اور روس نے باہمی تعاون کے ذریعے شام کے ایک بڑے علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔

انہون نے کہا کہ روس اور ایران خطے کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خاص طور سے شام میں بے گھر ہونے والوں کی باز آبادکاری کی غرض سے اہم قدامات انجام دے رہے ہیں۔

ایران کے وزیر دفاع جنرل امیر حاتمی ماسکو سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے منگل کے روز  تہران سے ماسکو پہنچے ہیں۔

ماسکو پہنچنے پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مشرق وسطی کی سلامتی سے متعلق بیرونی منصوبوں کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے کی سیکورٹی کے لئے اغیار کے تیار کردہ منصوبے شام میں ناکارہ ثابت ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے دو اتحاد تیار ہوئے تھے ان میں سے ایک اتحاد استقامتی محاذ کا ہے جس نے شام کی حمایت کر کے دہشت گردوں کے خلاف حقیقی معنوں میں جنگ لڑی اور داعش کو شکست دی جبکہ دوسرا نام نہاد اتحاد امریکی قیادت میں بنا تھا جس نے اپنے مفادات کے مطابق عمل کیا جہاں پر اس کا مفاد ہوتا تھا یہ اتحاد دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بجائے اس کی حمایت اور مدد کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی و استحکام کے لئے جو بھی منصوبے علاقے سے باہر تیار کئے جائیں گے وہ علاقے کے حقائق سے عدم ہم آہنگی اور ناوافقیت کی بنا پرعملی جامہ نہیں پہن سکیں گے اور نہ ہی ان کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ 

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں