اپ ڈیٹ: 26 January 2021 - 02:23
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں امریکی فوج کی موجودگی کے اخراجات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۰۵۶
تاریخ اشاعت: 20:38 - April 06, 2018

عرب ممالک ہمارے فوجی اخراجات برادشت کریں، امریکہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب سمیت خطے کے دولت مند ملکوں کو شام میں امریکی فوج کے اخراجات برداشت کرنےہوں گےڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ مشرق وسطی میں بھاری رقم خرچ کر رہا ہے اور اس کے عوض اسے کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے دولت مند ممالک معاملات میں شامل ہونے سے کیوں گریزاں ہیں۔

امریکی صدر نے اس سے پہلے بھی بحیرہ ایٹلانٹک کے تین ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مغربی ایشیا کے ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شام میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے اخراجات برداشت کریں۔قابل ذکر ہےکہ سعودی عرب نے بارہا امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ شام میں دہشت گردوں کو حتمی شکست سے بچانے کے لیے، اپنے فوجیوں کو باقی رکھے۔امریکی صدر گزشتہ دنوں یہ اعلان کرچکے تھے کہ وہ شام میں موجود امریکی فوجیوں کو جلد واپس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں بھی آل سعود حکومت سے چار ارب ڈالر کی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ البتہ اندازوں اور تخمینوں کے مطابق مغربی ایشیا میں امریکہ کی براہ راست اور بالواسطہ فوجی مداخلت کے اخراجات چار ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہیں۔

ایسے ناقابل انکار شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ داعش اور دیگر دہشت گرد تکفیری گروہوں کے قیام کے تمام تر اخراجات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں نے برداشت کیے ہیں، یہ سارے اخراجات شام کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے پر صرف کیے گئے۔

مگر وہ شامی حکومت کو نہیں گراسکےبظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی ایشیا میں فوجی مداخلت کے اخراجات اپنے علاقائی اتحادیوں سے وصول کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکی ٹیکس دھندگان پر بوجھ ہلکا کیا جاسکے۔دوسری جانب عظیم مشرق وسطی کے قیام کے لیے، سعودیوں اور صیہونیوں کا شدید رجحان امریکہ کی آمدنی کے بڑے ذریعے میں تبدیل ہوگیا ہے۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں