اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
عالمی جوہری توانائی ادارے میں تعینات سابق برطانوی مندوب نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے پر من و عن عمل کرنے سے ایران کے سیاسی اور سیکورٹی مفادات کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے.
خبر کا کوڈ: ۱۸۰۰
تاریخ اشاعت: 12:08 - July 09, 2018

جوہری معاہدے پر قائم رہنا ایران کے مفاد میں ہے: سابق برطانوی مندوبمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس موقع پر انہوں ںے ویانا میں جوہری معاہدے کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے اختتامی اعلامیہ میں بھی جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ پر زور دیا گیا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ سے ایران اپنے مفادات بالخصوص سیاسی اور سیکورٹی مفادات بہتر طریقے سے حاصل کرسکتا ہے.

پیٹر جینکنز کا کہنا تھا کہ ویانا کی حالیہ نشست سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ یورپ، چین اور روس کے ہمراہ ایران جوہری معاہدے پر قائم ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ ایران کو قائل کرے کہ حتی کہ امریکہ کی غیرموجودگی میں بھی اس معاہدے کے ذریعے ایرانی مفادات حاصل ہوسکتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ یورپ، امریکہ کی نئی پابندیوں کو غیر موثر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر وہ اس بات پر اطمینان دلا سکتا ہے کہ ایرانی مفادات کو ماضی کے بہ نسبت بہتر طریقے سے تحفظ فراہم ہوگا.اس موقع پر انہوں ںے ویانا میں جوہری معاہدے کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے اختتامی اعلامیہ میں بھی جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ پر زور دیا گیا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ سے ایران اپنے مفادات بالخصوص سیاسی اور سیکورٹی مفادات بہتر طریقے سے حاصل کرسکتا ہے.

پیٹر جینکنز کا کہنا تھا کہ ویانا کی حالیہ نشست سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ یورپ، چین اور روس کے ہمراہ ایران جوہری معاہدے پر قائم ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ ایران کو قائل کرے کہ حتی کہ امریکہ کی غیرموجودگی میں بھی اس معاہدے کے ذریعے ایرانی مفادات حاصل ہوسکتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ یورپ، امریکہ کی نئی پابندیوں کو غیر موثر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر وہ اس بات پر اطمینان دلا سکتا ہے کہ ایرانی مفادات کو ماضی کے بہ نسبت بہتر طریقے سے تحفظ فراہم ہوگا.

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں