اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
امریکی وزیرخارجہ اپنے ایک مضحکہ خیز بیان میں دعوی کیا ہے کہ تہران پر امریکی دباؤ اسلامی جمہوریہ ایران کے رویّے کو تبدیل کرنے میں موثر واقع ہوا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۹۸۲
تاریخ اشاعت: 22:17 - July 26, 2018

ایران کے سلسلے میں امریکی حکام کے مضحکہ خیز دعوےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے اجلاس میں تقریر کے دوران صدر ٹرمپ کا قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران چند مہینے قبل والا ملک نہیں رہا اور اب اس کا رویّہ تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسا اس لئے ہے کہ مالی دباؤ اور ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے سے ایران پر اثر پڑا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا اس بات کے خلاف ہے کہ ایران یورینیم افزودہ کرے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس سے  پہلے دعوی کیا تھا کہ امریکا کی طرف سے ایران پر اقتصادی دباؤ اور ایٹمی معاہدے سے واشنگٹن کے نکل جانے کے بعد علاقائی سطح پر ایران کی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے گذشتہ آٹھ مئی کو عالمی مخالفت اور مذمت کی پروا کئے بغیر ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کردیا تھا۔

ٹرمپ اور ان کے وزیرخارجہ کے یہ مضحکہ خیز بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسلامی انقلاب کے گذشتہ چالیس برسوں کے تجربات نے بخوبی پوری دنیا اور خاص طور پر امریکی حکام پر ثابت کیا ہے کہ ایران دباؤ کے سامنے کبھی بھی گھٹنے نہیں ٹیکے گا اور کسی بھی صورت میں اپنی سیاسی۔ اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی خود مختاری سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور آج بھی ٹرمپ انتظامیہ دباؤ اور دھمکیوں پر مبنی اپنی رجز خو۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے امریکی حکام کے ان بیانات کے ردعمل میں کہ جن میں ایران کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ تہران سے مذاکرات کی بھی باتیں کی گئی ہیں کہا ہے کہ امریکی حکومت اس تصور کو اپنے ذہن سے بالکل نکال دے کہ وہ دھمکیاں دے کر ایران سے اپنی مرضی کے مذاکرات کرسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ  اس طرح کی بات چیت کی روش  جس میں دھمکی بھی ہو اور مذاکرات بھی ہوں کہیں اور امریکا کے لئے کار گر ثابت ہو اور کچھ ممالک خود کو امریکا سے وابستہ سمجھتے ہوں لیکن ایران کبھی بھی امریکا کی دباؤ اور دھونس و دھمکی کی اسٹریٹیجی سے مرعوب نہیں ہوگا۔

اسلامی جمہوریہ ایران آج مختلف میدانوں میں اپنے اتحاد اور استقامت کی بدولت پہاڑ کی مانند استوار و ثابت قدم ہے اور اس کی دفاعی توانائیوں، جغرافیائی پوزیشن اورعلاقائی معاملات میں اس کی موثر موجودگی نے اسلامی جمہوریہ کو ایک بڑے اسٹیک ہولڈر میں تبدیل کردیا ہے اوراسی لئے اس کو کسی بھی بڑی طاقت سے نہ تو وابستہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی وہ اس کو برداشت کرتا ہے۔

اسی تناظر میں بدھ کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ہم ہر میدان میں امریکا کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی عدالت میں امریکا کے خلاف ایران کی شکایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک امریکی اقدامات کو غلط اور قابل مذمت سمجھتے ہیں یا کم سے کم امریکی اقدامات کو افسوسناک سمجھتے ہیں۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں