اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے نے کہا ہے کہ اراک کے رییکٹر کی تعمیر نو کا کام چین اور برطانیہ کے تعاون سے جاری ہے اور ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے سے اس ری ایکٹر کی تعمیر نو کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے
خبر کا کوڈ: ۲۱۹۳
تاریخ اشاعت: 23:07 - August 12, 2018

اراک کے ایٹمی ری ایکٹر کا کام چین اور برطانیہ کے تعاون سے جاری ہےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ایٹمی توانائی کے ادار ے کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے مطابق چین اور برطانیہ نے اراک کے ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر نو کی ذمہ داری  قبول کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے  بعد چین اور برطانیہ کے ہی اصرار پر اس ری ایکٹر کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ انہوں نے ایٹمی توانائی میں اضافے کے بارے میں رہبرانقلاب اسلامی کے حکم کے بارے میں کہا کہ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے نے اپنی تمام تر توانائیوں کو ایک لاکھ نوے ہزار سیپریٹیو ورک یونٹ تک پہنچنے کے لئے صرف کررکھا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چار جون دوہزار اٹھارہ کو امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی برسی کے پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران ایرانی حکام کو حکم دیا تھا کہ وہ تیزی کے ساتھ ایک لاکھ نوے ہزار سیپریٹیو ورک یونٹ تک پہنچنے کے لئے اپنی ایٹمی سرگرمیاں معاہدے کے دائرے میں تیز کردیں۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں