اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
آل سعود کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے الزام میں امامِ کعبہ کو گرفتار کرنے کی متضاد خبریں گردش کر رہی ہیں تاہم اب تک سعودی حکام نے ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۲۷۸
تاریخ اشاعت: 21:17 - August 24, 2018

امامِ کعبہ گرفتارمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب میں امامِ کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح الطالب کو مبینہ طور پر حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے الزام پر گرفتارکر لیا ہے تاہم اب تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ نے امامِ کعبہ کی حراست کی تصدیق کے لیے سعودی عرب میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کے سوشل میڈیا پر جاری بیان کا حوالہ دیا۔

پریزنر آف کنسائینس نامی یہ گروپ سعودی عرب میں مذہبی شخصیات، علما اور مبلغین کی گرفتاری پر نظر رکھتا ہے اور اس حوالے سے دستاویزات مرتب کرتا ہے۔

مذکورہ گروپ کی جانب سے امامِ کعبہ کی حراست کے پیچھے وجوہات کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں عام طور پر رائج برائیوں کے خلاف عوامی سطح پر آواز بلند کرنے کی اسلامی ذمہ داری کے حوالے سے دیے گئے ایک وعظ کے باعث گرفتار کیا گیا۔

اس حوالے سے خبر رساں ویب سائٹ خلیج آن لائن نے رپورٹ دی کہ شیخ ڈاکٹر صالح الطالب نے جو مکہ میں جج کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں اپنی تقریر میں کنسرٹس اور تفریحاتی تقریبات میں نامحرم مرد و خواتین کے گھلنے ملنے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

خیال رہے کہ ان کی گرفتاری کے چند گھنٹو ں بعد ہی ان کا انگریزی اور عربی ٹویٹر اکاؤنٹ بھی ڈی ایکٹِویٹ ہوگیا۔

اس حوالے سے ایک اور خبررساں ویب سائٹ مڈل ایسٹ مانیٹر نے لکھا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس سے کی جانے والی آخری ٹویٹس حج کے حوالے سے تھیں، تاہم اس بارے میں قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ یہ انہوں نے خود کی تھیں۔

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں سعودی عرب کے قدامت پسند معاشرے میں کئی جدید اصلاحات متعارف کروائی گئیں ہیں، جن کے تحت خواتین کو عوامی اجتماعات میں شرکت کی اجازت کے لیے قوانین میں نرمی بھی کی گئی۔

خیال رہے کہ سعودی فرماں رواں شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر ہونے کے بعد سے جون 2017 سے اب تک درجنوں مساجد کے اماموں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والےافراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور ان پر جیل اور عقوبت خانوں میں تشدد کرنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں