اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کابل میں علاقائی تعاون کی توسیع کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان اور ہندوستان کے سہ فریقی اجلاس کو مثبت قرار دیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۵۰۶
تاریخ اشاعت: 18:00 - September 18, 2018

آزاد ممالک امریکہ کی داداگیری کا مقابلہ کریں، ایرانمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے پیر کے روز ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے اپنے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان اور ہندوستان کے نائب وزرائے خارجہ کی شرکت سے کابل میں تینوں ملکوں کے تشکیل پانے والے اجلاس کے بارے میں کہا ہے کہ اس طرح کے اجلاس علاقائی تعاون کی توسیع میں موثر واقع ہو سکتے ہیں اور دنیا کے آزاد ممالک کو چاہئے کہ امریکہ کی داداگیری کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جنوبی عراق میں واقع بصرے میں ایران کے قونصل خانے کو ںذرآتش کئے جانے اور فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے پر حملہ کئے جانے کے بارے میں کہا کہ ان دونوں واقعات کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور دونوں حادثات الگ الگ نوعیت کے ہیں۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ بصرے میں ایران کے قونصل خانے کو نذر آتش، ایسے عناصر نے کیا جو ایک خاص موقع اور عراق کی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ملکوں کی قوموں کے تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم دونوں ملکوں کی قوموں کے مستحکم تعلقات اور دونوں قوموں کی ایک دوسرے سے آگاہی و شناخت اس بات کا باعث بنی کہ یہ عناصر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا کہ پیرس کا واقعہ ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے جو دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں پیدا ہوا ہے اور فرانس کی حکومت نے اس سلسلے میں ضروری اقدامات عمل میں لانے کا وعدہ کیا ہے اور تاکید کی ہے کہ وہ، حملہ آور عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی موجودگی کے بارے می‍ں کہا کہ صدر مملکت کا دورہ نیویارک مختلف سطحوں پرمختلف ملکوں کے اعلی حکام کے ساتھ ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا بہترین موقع ہے۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے شام کے بحران اور ادلب میں دہشت گردوں کے خلاف اس ملک کی فوجی کارروائی کے بارے میں بھی کہا کہ شام کی صورت حال اس وقت خاص اہمیت کی حامل ہے اور اہم علاقے کی حیثیت سے ادلب اب ایک حساس مسئلے میں تبدیل ہو گیا ہے۔

انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ دہشت گردی اور شام کی ارضی سالمیت کے بارے میں ایران کی پالیسی مکمل واضح ہے اور وہ کوشش کر رہا ہے کہ شام کے تمام علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا ہو جائے اور یہ تمام علاقے شام کی حکومت کے کنٹرول میں آجائیں۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں