اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
شام کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ صوبہ ادلب کو جلد دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ: ۲۸۷۹
تاریخ اشاعت: 20:20 - October 26, 2018

ادلب جلد آزاد ہوگا، شامی وزیر دفاعمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وزیر دفاع جنرل عبداللہ ایوب نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فوج اور رضاکار فورس کے جوانوں کے جذبہ ایثار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ میدانی صورتحال پوری طرح سے ہمارے ہاتھ میں اور دنیا ہماری کامیابیوں کا مشاہدہ کر رہی ہے۔شام کے وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ملک کی مسلح افواج اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور ملک کے تمام علاقوں میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پوری طرح آمادہ ہیںانہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ صوبہ ادلب کو بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا جائے گا۔جنرل علی عبداللہ ایوب کا کہنا تھا کہ عوام اور فوج کی استقامت اور صدر اسد کی مدبرانہ قیادت کے نتیجے میں ملک کے خلاف رچائی جانے والی سازش ناکام ہوگئی ہے۔

شام کے وزیر دفاع نے ایک بار پھر واضح کیا کہ شام میں امریکی اور برطانوی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی اور اقوام متحدہ کے ایک خودمختار رکن کے ملک کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ حمص، حلب، دیرالزور، غوطہ شرقی، درعا اور قنیطرہ پر شامی حکومت کی رٹ قائم ہوجانے اور ان علاقوں سے دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد جنہیں امریکہ اعتدال پسند قرار دیتا ہے، شام میں اب ترپ کا پتہ واشنگٹن کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔گذشتہ دو برس کے دوران شام کے مختلف علاقوں میں شامی فوج اور عوامی رضاکار فورس سے شکست کھانے اور شام میں کشیدگی سے عاری علاقوں کے قیام کے بارے میں ہونے والے سمجھوتے کے بعد دہشت گرد گروہ صوبے ادلب منتقل ہوئے

تھے اور اب باہمی اختلافات کے نتیجے میں ایک دوسرے کے خلاف بھی برسر پیکار ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ایک سو تین مختلف دہشت گرد گروہوں سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ چھیالیس ہزار کے قریب دہشت گرد ادلب اور جرابلس میں موجود ہیں۔ یہ دہشت گرد یورپ سمیت دنیا کے ساٹھ ملکوں کے شہری ہیں جنہیں امریکہ، سعودی عرب اور ان کے اتحادی ملکوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں