اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
پاکستان میں توہین رسالت کی مرتکب عیسائی خاتون کو سپریم کورٹ کے ذریعے بری کر دیئے جانے کے فیصلے کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۹۳۵
تاریخ اشاعت: 23:06 - November 01, 2018

پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے ملک گیر مظاہرےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے چاروں صوبوں کے مختلف شہروں میں مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور عوام کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والوں نے عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام سے بری کردینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف شدید مظاہرے کئے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے-

اسلام آباد میں مختلف مقامات پر دھرنے دیئے گئے ہیں جبکہ لاہور اور کراچی میں بھی دھرنے دے کر سڑکیں بند کر دی گئیں۔ پشاور اور کوئٹہ سے بھی شدید احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ہیں-

ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا اور اسکول و کالج بند کر دیئے گئے ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی ہے-

اس درمیان آسیہ بی بی کی بریت کا معاملہ جمعرات کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں اٹھا- پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جل رہا ہے لیکن وزیراعظم ایوان سے غائب ہیں-

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ توقع تھی کہ وزیراعظم ایوان کو اعتماد میں لیں گے لیکن وہ غائب ہیں-

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لئے مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کی منظور دے دی ہے- بدھ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد سے ہی پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے مختصر خطاب میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے مطابق ہے اور دھمکیاں دینے اور اکسانے والوں کے خلاف ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ حکومت کو قدم اٹھانے پر مجبورنہ کیا جائے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں