اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے دورہ بغداد میں عراق کے وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور قومی حکمت دھڑے کے رہنما کے ساتھ ہونے والی الگ الگ ملاقاتوں میں ایران اور عراق کے درمیان دو طرفہ سیاسی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر تاکید کی گئی۔
خبر کا کوڈ: ۳۴۵۲
تاریخ اشاعت: 18:42 - January 14, 2019

دو طرفہ تعل‍قات کے فروغ پر ایران و عراق کی تاکیدمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے دورہ بغداد میں اتوار کی شام عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے ملاقات کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے خطے کی تازہ ترین صورت حال اور دونوں ممالک  کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔

اس ملاقات میں عراقی وزیراعظم نے ایران و عراق کی مشترکہ تاریخی اور ثقافتی اقدار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا قیام عراق کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے اور ان کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی قوم اور حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کی خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لئے ہمیں ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہو گا۔

اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی عراق میں نئی سیاسی کامیابی اور حکومت کی تشکیل پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عراق میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی مضبوطی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عراق کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں مشترکہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لئے آمادہ ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے عراقی ہم منصب محمد علی حکیم سے بھی ملاقات کی جس میں فریقین نے دو طرفہ تعلقات کی توسیع اور علاقائی مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور عراق کے تعلقات بہت مستحکم ہیں اور کسی کو بھی مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس ملاقات کے بعد محمد جواد ظریف نے ایک بیان میں کہا کہ اس ملاقات میں مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات اور تعاون نیز بین الاقوامی اداروں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران شام کے ساتھ عرب ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے اور عرب لیگ میں شام دوبارہ واپسی کے لئے عراق کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

محمد جواد ظریف نے یہ بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں صیہونی حکومت کی حمایت علاقے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اسی طرح عراق کے تیّار الحکمۃ الوطنی (National Wisdom Movement) کے رہنما اور اصلاح و تعمیر الائنس کے سربراہ سید عمار حکیم سے بھی اس الائنس کے رہنماؤں کی موجودگی میں ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کی دلچسپی کے موضوعات زیر بحث آئے۔

 اس ملاقات میں عمار حکیم نے بھی کہا کہ ایران ہمیشہ عراق کا حامی رہا ہے اور اسی بنیاد پر عراق بھی ایران کے خلاف پابندیوں کے خلاف ہے اور ہم ان پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

سید عمار حکیم نے یہ بھی کہا کہ ایران نے داعش دہشت گرد گروہ کے مقابلے میں عراق کی بھرپور مدد کی اور اس سلسلے میں ایران کے اہم کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ نے بھی عراق میں امن و استحکام نیز اس ملک کی ارضی سالمیت کے تحفظ عراق کی مرجعیت اور اس ملک کے سیاسی رہنماؤں منجملہ سید عمار حکیم اور حکیم خاندان کے کردار کی قدردانی کی۔

واضح رہے کہ محمد جواد ظریف اتوار کو عراق کے سرکاری دورے پر بغداد پہنچے ہیں اپنے دورہ عراق میں عراقی حکام کے ساتھ ملاقاتوں سمیت وہ عراقی شہر بغداد، سلیمانیہ اور کربلا میں منعقد ہونے والے مشترکہ تجارتی فورم میں بھی شرکت کریں گے۔

پیغام کا اختتام/

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: