اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
بین الاقوامی امور میں ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی حسین امیر عبداللہیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر پریس ٹی وی کی خاتون اینکر مرضیہ ہاشمی کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو پھر اس کھیل کا نتیجہ امریکا کے ہاتھ میں نہیں ہو گا- دوسری جانب امریکا کے ایک معروف ماہر قانون نے مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری کو امریکی آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۳۴۶۶
تاریخ اشاعت: 14:05 - January 18, 2019

مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری کے معاملے پر امریکا کو ایران کا انتباہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی امور میں ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی حسین امیر عبداللہیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر پریس ٹی وی کی اینکر اور معروف صحافی مرضیہ ہاشمی کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہو گی-

انہوں نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا کہ مرضیہ ہاشمی کو گرفتار کرنے کا سیاسی کھیل امریکا نے شروع کیا ہے اور اگر پرس ٹی وی کی اس اینکر کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو اس کھیل کا اختتام امریکا کے ہاتھ سے نہیں ہو گا-

دوسری جانب امریکا کے ایک معروف ماہر قانون نے کہا ہے کہ مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے- امریکا کی میامی یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے پروفیسر ریکارڈو باسکواس نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے کسی الزام کے بغیر جو مرضیہ ہاشمی کو گرفتار کیا ہے وہ خود امریکی قانون اور آئین کے منافی ہے-

مذکورہ امریکی ماہر قانون نے کہا کہ امریکیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مرضیہ ہاشمی کو ایک کلیدی گواہ کے طور پر گرفتار کیا ہے جبکہ کلیدی گواہ کی کوئی صحیح تعریف نہیں کی گئی ہے اور یہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے جو کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ نہ کچھ معلومات رکھتا ہو-

بنابریں اگر اس بات کو مان لیا جائے تو حکومت کسی خاص شخص کو نشانہ نہیں بنا سکتی اور  خاص طور پر کسی ایسے معاملے میں جس کی اطلاعات و معلومات صرف حکومت کو ہی ہوتی ہے-

امریکی ماہر قانون باسکواس نے کہا کہ امریکی آئین کے آرٹیکل چار میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ کسی بھی گواہ کو گرفتار کرنا خلاف قانون ہے کیونکہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہوتا کہ ایک گواہ نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے-

واضح رہے کہ امریکی پولیس ایف بی آئی نے ایران کے پریس ٹی وی چینل کی معروف اینکر اور صحافی مرضیہ ہاشمی کو کوئی وجہ بتائے بغیر گرفتار کر لیا ہے-

وہ اپنے بھائی اور گھر والوں سے ملاقات کے لئے امریکا گئی تھیں- مرضیہ ہاشمی نے اپنے گھر والوں سے ایک ٹیلی فونی رابطے میں بتایا ہے کہ جیل حکام نے ان کا حجاب جبری طور پر اتار لیا ہے اور ان کے ہاتھ پیر زنجیر سے باندھ دیئے ہیں اور انہیں سور کا گوشت کھانے کو دیا جس کو انہوں نے سختی سے منع کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ انہیں کھانے کو کچھ بھی نہیں دیا جا رہا ہے- مرضیہ ہاشمی نے بتایا کہ وہ صرف روٹی کھا کر گذارا کر رہی ہیں- امریکی پولیس ایف بی آئی نے مرضیہ ہاشمی کو گرفتار کرنے کے پانچ روز بعد بھی ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے ؟

پیغام کا اختتام/

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: