اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ایٹمی معاہدے کے بارے میں ویانا میں ایران اور گروپ چار جمع ایک کے وزرائے خارجہ اور خارجہ امور میں یوپی یونین کی سربراہ کا مشترکہ اجلاس ختم ہو گیا۔ اس سے قبل ایٹمی معاہدے کے فریق ملکوں کے وزرائے خارجہ نے آپس میں بھی دو طرفہ مذاکرات کئے۔
خبر کا کوڈ: ۱۷۷۸
تاریخ اشاعت: 22:56 - July 06, 2018

ایران اور گروپ چار جمع ایک کے وزرائے خارجہ کا ویانا اجلاسمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایٹمی معاہدے کی موجودہ صورت حال کے بارے میں ایران، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کا ویانا میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس ویانا کے کوبرگ ہوٹل میں تشکیل پایا۔

یہ اجلاس ایران کی اپیل پر وزرائے خارجہ کی سطح پر تشکیل پایا۔ اجلاس میں ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد اسے باقی رکھنے اور ایران کے اقتصادی و تجارتی مفادات کے تحفظ کے مقصد سے یورپ کے مجوزہ پیکیج کا جائزہ لیا گیا۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جمعے کی صبح یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی اور روس و چین کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقات کی۔

اس اجلاس میں بریگزٹ کے بارے میں برطانوی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے برطانیہ کے وزیر خارجہ شرکت نہ کر سکے اور ان کی جگہ برطانیہ کےنائـب وزیر خارجہ ایلسٹر برٹ نے شرکت کی۔

ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا آخری اجلاس پچّیس مئی کو ویانا میں منعقد ہوا تھا اور اس اجلاس کے شرکا نے ایٹمی معاہدے کے تحفظ اور ایران کے نظریات پر توجہ دیئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی تھی۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ویانا پہنچنے پر نامہ نگاروں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ یورپ کا مجوزہ پیکیج ایرانی عوام کے حقوق کی ضمانت کے لئے ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے والے ملکوں کے وعدوں و معاہدوں کے شامل حال ہو گا۔

دریں اثنا روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان کیا ہے کہ روس اور چین ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ باقی رکھے جانے کے حق میں ہیں۔ انھوں نے یہ بیان ویانا میں چینی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد دیا۔
اجلاس شروع ہونے سے قبل فرانسیسی وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ ایٹمی معاہدے کی نجات کے لئے یورپ کا مجوزہ اقتصادی پیکیج اگست ماہ تک تیار کیا جانا مشکل ہے اور یہ مجوزہ پیکیج نومبر سے پہلے تیار نہیں ہو پائے گا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ نومبر تک ایران کے تیل کی برآمدات وہ صفر پر پہنچا دیں گے۔ جبکہ فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ نومبر سے قبل مجوزہ پیکیج تیار نہیں ہو سکے گا۔
جرمن وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ویانا اجلاس ایٹمی معاہدے کے تحفظ کے لئے متعلقہ ملکوں کی خواہش پر مبنی ایک واضح پیغام ہے۔

چین کے وزیر خارجہ نے بھی آسٹریا کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ویانا اجلاس، ایران کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے کے تحفظ کے لئے ایک واضح پیغام ہے۔
ویانا میں ایران اور گروپ چار جمع ایک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، ایسا پہلا اجلاس ہے جو ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد اس کی شمولیت کے بغیر تشکیل پایا ہے۔

امریکہ نے آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یٹمی معاہدے کو باقی رکھے جانے کے بارے میں دیگر فریق ملکوں کی درخواست پر ایران نے ایٹمی معاہدے کے مطابق ایرانی عوام کے مفادات کی حفاظت کے لئے ضمانت اور ایران کی شرائط پوری کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں