اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
مولانا فضل الرحمان نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے آج ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی جبکہ عمران خان نے دھاندلی کا الزام مسترد کردیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۹۹۷
تاریخ اشاعت: 10:11 - July 27, 2018

انتخابی نتائج مسترد،احتجاج کی کال، دھاندلی نہیں ہوئیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ  کی زیر صدارت متحدہ مجلس عمل کا اجلاس ہوا جس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن ضرور ہوا لیکن یہ عوامی مینڈیٹ نہیں لہذا ایم ایم اے انتخابی نتائج مسترد کرتی ہیں جب کہ آج اے پی سی طلب کی ہے جس کی میزبانی ،شہباز شریف اور میں کر رہا ہوں، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم سمیت ان پارٹیوں کو دعوت بھی دی ہے جنہیں انتخابی نتائج میں تحفظات ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دعوے سے کہتا ہوں کہ ملک بھر میں فارم 45 پر انتخابی نتائج نہیں دیے گئے، آج اے پی سی میں اپنا موقف پیش کریں گے اور الیکشن کالعدم کرانے کے لیے تمام جماعتوں کو اتفاق رائے پرلائیں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال (ن) لیگ  آل پارٹیز کانفرنس نہیں بلا رہی تاہم مسلم لیگ (ن) کا وفد آج ایم ایم اے کی اے پی سی میں شرکت کرے گا۔

بعد ازاں لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا لیکن ہم عوام کا مینڈیٹ چوری نہیں ہونے دیں گے۔

ادھرعمران خان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں دھاندلی کا الزام لگارہی ہیں، موجودہ الیکشن کمیشن ن لیگ اور پی پی پی نے بنایا ہے پی ٹی آئی نے نہیں، انہیں جس حلقے میں دھاندلی کا شبہ ہے، ہم پوری مدد کریں گے اور وہ سارے حلقے کھلوائیں گے اور تحقیقات کرائیں گے، اپوزیشن کے خدشات کو دور کریں گے، قوم دعا کرے کہ اللہ مجھے اپنے وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا کرے، قوم سے وعدہ کرتا ہوں گورننس نظام ٹھیک کرکے دکھاؤں گا جو عوام کی زندگی آسان بنائے گا، سادگی اختیار کروں گا، پچھلے حکمران عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر عیاشی کرتے تھے، لیکن ہم پاکستان میں پہلے سے مختلف قسم کی حکمرانی قائم کریں گے۔

پیغام کا اختتام/
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں