اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
صیہونی فوجیوں نے ایک بار پھر فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر وحشیانہ فائرنگ کرکےکم سے کم دوفلسطینیوں کو شہید اور ایک سو بیس سے زائد دیگر کو زخمی کردیا ہے
خبر کا کوڈ: ۲۱۱۸
تاریخ اشاعت: 18:55 - August 04, 2018

فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق صیہونی فوجیوں نے فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر وحشیانہ فائرنگ کرکے ایک بار پھر دو فلسطینیوں کو شہید اور ا یک سو بیس کو زخمی کردیا۔

بیت المقدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کی بربریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور جمعے کو ایک بار پھر فلسطینیوں کے پر امن واپسی مارچ پر صیہونی جارحیت کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور ایک سو بیس سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے کئی ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں میں زیادہ تر بچے اور عورتیں ہیں۔جمعے کو صیہونی فوجیوں کی فائرنگ میں شہید ہونے والوں میں ایک پندرہ سالہ فلسطینی بچہ معاذ زیاد طارق بھی شامل ہے -

غزہ کے فلسطینیوں نے مسلسل انیسویں ہفتے جمعےکو پرامن واپسی مارچ نکالا اور اپنے حقوق کی بازیابی تک اپنی جائز جد وجہد جاری رکھنے پر زور دیا- اس دوران غزہ کے شمال میں البریج کیمپ کے قریب صیہونی فوجیوں نے شدید فائرنگ کردی -گذشتہ انیس ہفتے سے اسرائیلی فوج کی غزہ کے شہریوں پر بہیمانہ فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک سوپچپن سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ تقریبا سترہ ہزار فلسطینی زخمی ہوئے جن میں سے بہت سے فلسطینیوں کی حالت نازک ہے -

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے پرامن مظاہرے کو کچلنے کے لئے براہ راست گولیوں کا استعمال کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود نہ فقط عالمی ادارے خاموش ہیں بلکہ امریکہ کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے-

فلسطینی قیدیوں کے امور کے مرکزنے بھی خبردی ہے کہ صیہونی حکومت نے صرف جولائی کے مہینے میں ساڑھے پانچ سو فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے - خبروں میں بتایا گیاہے کہ صیہونی فوجیوں نے جولائی میں جن فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے ان میں اسّی بچے اور انیس خواتین بھی شامل ہیں جبکہ صیہونی فوجیوں نے ان ستائیس غیر ملکی امدادی کارکنوں کو بھی گرفتار کرلیا ہے جو واپسی نامی فلوٹیلا کے ساتھ غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لئے غزہ کی جانب روانہ ہوئے تھے - ان غیر ملکی امدادی کارکنوں کو صیہونی فوجیوں نے اسدود بندرگاہ کے قریب گرفتار کیا تھا۔

دوسری جانب غزہ سے باہر مقیم فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما مصر کے انٹلیجنس عہدیداروں سے مذاکرات کرنے کے بعد غزہ پہنچے ہیں تاکہ قومی آشتی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور غزہ کے ظالمانہ محاصرے کو کم کرنے کے طریقوں کے بارے میں مصری حکومت کی تجویز سے غزہ میں حماس کے رہنماؤں کو آگاہ کریں اور قومی آشتی کے منصوبے کو روبہ عمل لانے کا جائزہ لیں

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: