اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
یہ بات اچھی ہے کہ سعودی اتحاد یمن پر چار برسوں سے جاری حملوں میں مسلسل عام شہریوں کے قتل عام کے بعد اب یہ اعتراف کر رہا ہے کہ ایک مہینے پہلے صوبہ صعدہ کے شمالی شہر میں بچوں کو لے جا رہی بس پر بمباری کرکے اسکے جنگی طیاروں نے غلطی کی تھی۔
خبر کا کوڈ: ۲۳۷۲
تاریخ اشاعت: 17:16 - September 04, 2018

سعودی حکام کی جانب سے جنگی جرائم کا اعتراف !!! + مقالہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں 51 کے گناہ افراد شہید ہوئے تھے جن میں 41 معصوم بچے تھے۔ سعودی اتحاد کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس غلطی کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی نیز متاثرہ خاندان کو معاوضہ دیا جائے گا۔ تاہم تشویش کا موضوع یہ ہے کہ سعودی عرب کے اس طرح کے بیان ہم کئی بار پہلے بھی سن چکے ہیں۔ جب بھی سعودی عرب نے یمن میں قتل عام کیا اس کے بعد اس طرح کے بیان آئے تاکہ عالمی برادری کے غم و غصے کو کسی حد تک خاموش کیا جائے۔

عالمی انسانی حقوق کونسل نے جو بیان جاری کیا ہے اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ صوبہ صعدہ کے شمال میں کیا جانے والا قتل عام جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ بات دیگر عالمی اداروں نے بھی کہی ہے مگر سب سے اہم بیان جس نے ہمارے خیال میں سعودی عرب کو شروعاتی انکار سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا وہ امریکا کا تھا۔ امریکی وزارت خارج کی ترجمان ہیتھر نیوئرٹ نے اس بیان میں کہا تھا کہ امریکی حکومت، عالمی اداروں کی جانب سے آنے والی رپورٹوں کو سنجیدگی سے لے رہی ہے جن میں یمن میں جنگی جرائم کی بات کہی جا رہی ہے اور اس جنگی جرائم میں دوسرے فریق کی بات کہی جا رہی ہے اور اس جنگی جرائم میں دوسرے فریق کے ساتھ سعودی عرب بھی شامل ہے۔

ترجمان نے کہا کہ رپورٹوں میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی جو بات کہی جا رہی ہے وہ امریکی حکومت کے لئے تشویش کا موضوع ہے۔ امریکی حکومت کی تشویش ہی در حقیقت سعودی حکومت کو تشویش میں مبتلا کر رہی ہے کیونکہ امریکا ہی سعودی عرب کو پیشرفتہ جنگی طیارے اور میزائل فراہم کر رہا ہے جنہیں سعودی عرب جنگ یمن میں استعمال کر رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ان بے گناہ یمنی شہریوں کو قتل کرک رہا ہے جو دو وقت کی روٹی کے لئے مزاحمت کرتے ہیں جو متعدد قسم کی مہلک بیماریوں سے لڑ رہے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیارے جن کے بارے میں ان ممالک کا دعوی ہے کہ وہ جنگ کے سبھی قوانین پر عمل کرتے ہیں اور صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، گزشتہ چار سال میں بارہا شادی کے پروگرامز، مجالس ترحیم، اسکولوں، اسپتالوں، پانی کے کارخانوں اور بازاروں کو نشانہ بنا کر عام شہریوں، بچوں اور خواتین کا قتل عام کیا ہے۔

صعدہ میں بچوں کا قتل عام کرنے کے بعد سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے پریس کانفرنس میں جو بیان دیا اس سن کر ہم اور ہمارے جیسے افراد سہر اٹھے۔ ترجمان نے کہا کہ بچوں کی بس پر بمباری بھی قانونی فوجی کاروائی تصور کی جائے گی اور یہ کاروائی عالمی قوانین کے دائرے میں آتی ہے کیونکہ اس حملے میں وہ لوگ مارے گئے ہیں جنہوں نے جنوبی سعودی عرب کے نجران شہر پر کئے گئے بیلسٹک میزائل حملے کا منصوبہ بنایا اور پھر اس منصوبے پر عمل کیا۔

ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتنا کہ جنرل مالکی اب کیا کہیں گے جب ان کی اعلی قیادت نے اس حملے پر افسوس ظاہر کیا اور متاثرہ افراد کو تسلیت پیش کی اور معاوضے کی ادائیگی کے لئے کمیٹی بنانے کی بات کہی ہے۔ وہ انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ پر کیا رد عمل ظاہر کریں گے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ جنگی جرائم کے زمرے میں شامل ہو سکتا ہے؟

اسکولی بچے جن کی لاشوں کے ٹکڑے ساری دنیا نے دیکھے اور جو اپنی اسکول بس سے جا رہے تھے، کیسے میزائل فائر کر سکتے ہیں بلکہ وہ اتنے چھوٹے بچے ہیں کہ کسی اور شہر پر پتھر بھی نہیں مار سکتے۔  

انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ بالکل صحیح ہے اور ماہرین نے ثبوتوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر اسے تیار کیا ہے۔ انہوں نے یمن پر سعودی عرب کی جنگ کو واضح جارحیت قرار دیا ہے۔ یہ رپورٹ اس اتحاد کے لئے وارننگ ہونی چاہئے اور اسے فورا اس جنگ کو ختم کرنے کا عمل شروع کرنا چاہئے۔

بشکریہ

رای الیوم

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں