اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
وفاقی وزیرا طلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاک بھارت وزرائے خارجہ کی سائیڈ لائن ملاقات کی منسوخی بدقسمتی ہے تاہم اب مستقبل کے لائحہ عمل خود بھارت نے ہی تیار کرنا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۵۷۱
تاریخ اشاعت: 12:37 - September 23, 2018

بھارت کو مستقبل کا لائحہ عمل خود تیار کرنا ہے، فواد چوہدریمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی سیٹ بیک ہے اس کے باوجود کرتار پور سرحد کھولنے کے لیے تیار ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے ہیں، مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیاں حقیقی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاملات سے نمٹنے کے کئی طریقے ہیں، ایک آپشن ہے کہ دونوں ممالک جنگ کی طرف جائیں جو بے وقوفی ہوگی، دوسرا طریقہ یہ کہ دونوں ملک اندروںی طور پر ایک دوسرے کو کمزور کریں اور تیسرا طریقہ تصفیہ طلب مسائل کا حل بات چیت سے نکالنےکا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم تمام معاملات پر بحث کرنے کے لیے تیار ہیں، ہم نے گزشتہ 7 دہائیوں میں 3 جنگیں لڑیں تاہم اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کرسکتے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت میں انتخابات ہونے والے ہیں شاید وہاں پاکستان مخالف نعرے زیادہ بکتے ہیں تاہم پاکستان میں بھارت مخالف نعرے نہیں بکتے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تجویز پیش کی گئی تھی جسے بھارت نے قبول کر لیا تھا۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان 27 ستمبر کو نیویارک میں ملاقات بھی طے پا گئی تھی، تاہم نئی دہلی کی جانب سے یہ ملاقات چند گھنٹے بعد ہی منسوخ کردی گئی۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں