اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہےکہ تہران شامی حکومت اور عوام کی مرضی کے خلاف اس ملک میں بیرونی افواج کی موجودگی کے خلاف ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۶۰
تاریخ اشاعت: 11:39 - February 07, 2018

ایران شام میں بیرونی افواج کی موجودگی کے خلاف ہے،صدر روحانیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ علاقے کے تمام ممالک، شام کے قومی اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کا احترام کریں گے۔

صدر مملکت حسن روحانی نے ایران اور روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دو طرفہ سمجھوتوں پر فوری طور پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اسی طرح یمنی عوام کی ابتر صورت حال اور اس ملک میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کی جانب سے یمن کو میزائل فراہم کئے جانے کے بارے میں امریکہ اور سعودی عرب کے الزامات کوبے بنیاد قرار دیا۔

اس ٹیلیفونی گفتگو میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی معاہدے کو غیر معمولی اہمیت کاحامل قرار دیا اور  کہا کہ اس معاہدے کو کمزور بنانے کی کوئی بھی کوشش علاقے کے لئے خطرناک ہو گی اور ماسکو نے تمام ممالک کو اپنے موقف سے باخبر کر دیا ہے۔

روسی صدر نے اسی طرح یمنی عوام کی صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا اور اس ملک میں امن کی بحالی اور مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: