اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
روس اور ترکی کے صدور نے استبول سربراہی اجلاس میں بحران شام کے حل میں اسلامی جمہوریہ ایران کا کردار فیصلہ کن قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یورپی سربراہوں نے بشار اسد حکومت کے خاتمے کے موقف سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۹۰۳
تاریخ اشاعت: 16:00 - October 28, 2018

استنبول اجلاس، بحران شام کے حل میں ایران کے کردار پر تاکیدمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، روس کے صدر نے استنبول میں شام کے بارے میں ہونے والے چار فریقی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی دھڑوں کے درمیان گفتگو کا آغاز ایران کی مشارکت کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔

صدر ولادیمیر پوتن نے مزید کہا کہ ایران بھی شام میں امن، جنگ بندی اور غیر فوجی علاقوں کے قیام کی ضمانت دینے والے ملکوں میں شامل ہے بنابرایں ایران کی مشارکت کے بغیر یہ معاملہ حل نہیں ہو سکتا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی اس موقع پر کہا کہ بحران شام کے حل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی شمولیت ضروری ہے اور شامی عوام کا مفاد بھی اسی سے وابستہ ہے۔

استنبول میں شام کے بارے میں ہونے والے چار فریقی سربراہی اجلاس میں شام کی ارضی سالمیت اور سیاسی استحکام کے ضرورت پر بھی زور دیا گیا اور اس بات پر تاکید کی گئی کہ اپنے ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا صرف اور صرف شام کے عوام کو حاصل ہے۔

ترکی، روس، جرمنی اور فرانس کے سربراہوں نے چار فریقی اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی شرکت کی۔

ترکی، فرانس اور جرمنی کے سربراہوں کے بیانات کا اہم نکتہ یہ تھا انہوں نے صدر بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگی کے دیرینہ موقف سے پسپائی اختیار کر لی اور اس بات کو شامی عوام کے فیصلے پر چھوڑ دیا۔

ترکی کے صدر نے دہشت گردوں کے ہاتھوں صدر بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے میں ناکامی کے بعد اعلان کیا ہے کہ صدر بشار اسد کے مستقبل کا فیصلہ شام کے عوام کریں گے۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے بھی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ شام کے عوام کو اس بات کا موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں از خود کوئی فیصلہ کر سکیں۔

فرانس کے صدر امانوئیل میکرون نے اس موقع پر کہا کہ شام کے آئندہ سیاسی نظام کا فیصلہ ہمیں نہیں کرنا بلکہ یہ کام شامی عوام کو کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ شام میں ایک خودمختار حکومت قائم ہے اور سب کو اس حکومت کا احترام کرنا چاہیے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے اس موقع پر واضح کیا کہ اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ صرف اور صرف شام کے عوامی ہی کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ ترکی اور مغربی ممالک بارہا شام کے صدر بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگی پر زور دیتے آئے ہیں۔

شام کا بحران نے سن دو ہزار گیارہ میں سعودی عرب، امریکہ اور اس کے دیگر اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے نتیجے میں شروع ہوا تھا جس کا مقصد خطے کے حالات کو اسرائیل کے مفاد میں موڑنا تھا۔  

پیغام کا اختتام/

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں