اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
فرانس میں یلو ویسٹ کے نام سے موسوم سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہو گئے۔
خبر کا کوڈ: ۳۲۰۸
تاریخ اشاعت: 23:35 - December 16, 2018

فرانس میں یلو ویسٹ مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، شمالی فرانس میں یلو ویسٹ والوں کے مظاہروں کے دوران ایک اور خاتون کی ہلاکت کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف پانچویں ملک گیر مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

فرانس کی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں چھیاسٹھ ہزار افراد نے حصہ لیا ہے جبکہ پولیس نے بلوے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔

حکومت کی جانب سے مظاہرے منسوخ کرنے کی اپیلوں کے باوجود یلو ویسٹ مظاہروں کا سلسلہ ہفتے کو پھر سے شروع ہو گیا ہے۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں کیے گئے جب فرانسیسی  حکومت نے مظاہروں کو دبانے کے لیے سیکورٹی کے کڑے انتظامات کر رکھے تھے اور ملک کی اہم شاہراہوں اور مقامات پر پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی  بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

سترہ نومبر سے پیرس میں شروع ہونے والے ان مظاہروں کا دائرہ بیلجیم تک سرایت کر گیا ہے اور دارالحکومت برسلز میں بھی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے کا مشاہدہ کیا گیا۔

فرانس میں ہونے والے مظاہروں کے ساتھ ساتھ بیلجیئم میں ہزاروں افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر کی جانب جانے والی تمام شاہراہیں بند ہو گئیں۔

وزیراعظم چارل مچل کی پالیسیوں کے مخالفین نے گزشتہ ہفتے بھی برسلز مظاہرے کیے تھے جس کے دوران پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں بھی ہوئیں تھیں، پولیس نے سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔

روز مرہ کے اخراجات میں بے تحاشہ اضافے کو بیلجیئم میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کی اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
 ادھر اٹلی میں بھی ہزاروں افراد نے ہفتے کے روز مظاہرے کر کے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نعرے لگائے اور پناہ گزینوں کے بارے میں حکومت کی نئی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کی۔

روم میں ہونے والے اس مظاہرے کے شرکا  نے بھی فرانس میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے یلو ویسٹ پہن رکھے تھے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں