اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
سرکاری ذرائع کے مطابق کابل میں موجود سرکاری عمارتوں پر عام طور پر طالبان کی جانب سے حملے کیے جاتے رہے ہیں جو غیر ملکی فوج کو افغانستان سے نکالنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۳۲۵۷
تاریخ اشاعت: 20:43 - December 25, 2018

کابل حملے میں ہلاکتیں 46 ہوگئیںمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے درالحکومت کابل کی سرکاری عمارت پر دہشت گردوں کے حملے میں 46 افراد جاں بحق اورمتعدد زخمی ہو گئے۔

کابل میں واقع سرکاری عمارت کو سیکیورٹی فورسز نے سات گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد کلیئر کرا دیا اور تقریباً ساڑھے تین سو سے زائد افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے

ترجمان افغان دفتر خارجہ نجیب دانش کے مطابق سیکیورٹی فورسز سے مقابلے میں تین دہشت گرد مارے گئے جب کہ ایک پولیس اہلکار بھی جاں بحق ہوا ہے۔ حملہ وزارت پبلک ورکس کی عمارت میں کیا گیا تھا، حملہ آوروں نے پہلے پبلک ورکس کے دفتر کے گیٹ پر کار کو دھماکے سے اُڑایا اور پھر عمارت میں داخل ہو گئے۔

دہشت گردوں کی مسلسل فائرنگ اور دھماکوں سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا جب کہ قریبی موجود دیگر سرکاری عمارتوں اور دفاتر میں موجود ملازمین نے اپنے دفتروں کو اندر سے بند کردیا تھا۔

افغان حکام کے مطابق سرکاری کمپاؤنڈ پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی،واقعے میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں زیادہ تر شہری ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان فورسزکی جوابی کارروائی میں 3 حملہ آورمارے گئے، جبکہ ایک حملہ آور حملے کے آغاز میں کاربم دھماکے میں مارا گیا تھا اس طرح واقعے میں 4 حملہ آور ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ کابل میں گزشتہ شام دہشتگردوں نے وزارت عوامی امور کی عمارت پر حملہ کیا گیا تھا۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں