اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بے بنیاد دعوؤں کی تکرار کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ واشنگٹن علاقے میں ایران مخالف ایک اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے- دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ماسکو پولینڈ میں ایران مخالف کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
خبر کا کوڈ: ۳۴۹۶
تاریخ اشاعت: 15:10 - January 23, 2019

ایران مخالف امریکی کانفرنس میں روس شرکت نہیں کرے گامقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپیؤ نے ڈیووس کے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر یہ بے بنیاد دعوی کیا کہ ایران علاقے میں بدامنی کا باعث ہے-

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ علاقے میں ایران مخالف ایک اتحاد تشکیل پا جائے گا- انہوں نے مشرق وسطی کے ملکوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ان ملکوں کو چاہئے کہ وہ خود کو ایران سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اس صورت میں امریکا بھی ان کے علاقائی اتحاد کی مدد کرے گا-

امریکی وزیر خارجہ پچھلے کچھ دنوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ تیرہ اور چودہ فروری کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایران مخالف ایک کانفرنس تشکیل دیں-

دوسری جانب روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ ماسکو وارسا میں ہونے والی ایران مخالف کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا-

روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وارسا کانفرنس کے انعقاد کا مقصد ایٹمی معاہدے کو نقصان پہنچانا ہے جبکہ اس  معاہدے کی  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے توثیق کی ہے اور امریکا کو چھوڑ کر اس معاہدے کے سبھی فریق اس کو باقی رکھنے کے حق میں ہیں-

روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ماسکو ایران مخالف وارسا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے اپنے موقف پر قائم ہے- بیان میں کہا گیا ہے کہ وارسا کانفرنس کا ایک اور مقصد مشرق وسطی میں امن و استحکام کی برقراری کے لئے عالمی برادری کی کوششوں کو سب و تاژ کرنا ہے-

روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وارسا کانفرنس کے ایجنڈے میں مشرق وسطی کے اہم ترین مسائل منجملہ فلسطین کے مسئلے کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے-

اس درمیان بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وارسا کانفرنس پہلے سے ہی ناکام ہو چکی ہے-

پولینڈ کے وزیرخارجہ جاکیج کژپوتوویچ نے بھی ورسا اجلاس میں روس کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار اور مشرق وسطی کے واقعات میں ماسکو کے اہم کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کی شرکت کے بغیر اس کانفرنس کی کامیابی کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی-

مبصرین کا کہنا ہے کہ اسی لئے جہاں اس کانفرنس کو پہلے سے ناکام قرار دیا جا رہا ہے وہیں مختلف ملکوں کی طرف سے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے بیانات سامنے آ رہے ہیں-

روس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی دعوت پر ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گی-

پیغام کا اختتام/

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: