اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
امریکی انٹیلی جینس نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ایران کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایٹمی بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۳۵۵۷
تاریخ اشاعت: 14:25 - January 30, 2019

امریکی انٹیلی جینس نے ایران کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیامقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے لیے عالمی خطرات  کے نام سے پیش کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں جسے منگل کی شام سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا ایران، شمالی کوریا اور داعش کی شکست کے بارے میں صدر ٹرمپ کے دعووں کو بھی مسترد کر دیا گیا۔

اس رپورٹ میں آیا ہے کہ شمالی کوریا اپنی تمام ایٹمی سائٹس ختم نہیں کرے گا، جبکہ ایران تاحال ایٹم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

رپورٹ میں امریکی انٹیلی جینس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ایٹم بم بنانے کی جانب نہیں لے جا رہا ہے۔

امریکی انٹیلی جینس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ڈان کوٹس نے سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ ایران اس وقت جو سرگرمیاں انجام دے رہا ہے ان سے ایٹمی ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں۔

سی آئی اے کی سربراہ جینا ہیسپل نے بھی سینیٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران فنی لحاظ سے جامع ایٹمی معاہدے پر پوری طرح عمل کر رہا ہے۔

امریکہ کے اہم ترین انیٹلی جینس اداروں کی یہ رپورٹ جس میں ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پاسداری کیے جانے کی بات کہی گئی ہے، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کو نو ماہ اور تہران کے خلاف بینکاری اور تیل کے شعبے پر پابندیوں کے دوباہ آغاز کو تین ماہ کا عرصہ گزر رہا ہے۔

البتہ اس سے پہلے دنیا بھر کے ملکوں کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں رائے دینے والے مجاز ادارے کی حثیت سے آئی اے ای اے کی رپورٹوں میں بھی بارہا اس بات کی تصدیق کی جا چکی ہے کہ ایران، ایٹمی معاہدے پر پورے طور سے عمل کر رہا ہے اور امریکہ کی علیحدگی کے باوجود ایران نے اس معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھا ہے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو امریکی انٹیلی جینس کمیونٹی کی رپورٹ کو در اصل آئی اے ای اے کی رپورٹوں کی پیروی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

امریکی انٹیلی جینس کی رپورٹ کے مطابق داعش گروہ اب بھی عراق اور شام میں ہزاروں دہشت گردوں کو کنٹرول کر رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کے آٹھ شعبے اور درجنوں نیٹ ورک بدستور کام کر رہے ہیں۔

پیغام کا اختتام/

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: