اپ ڈیٹ: 10 April 2021 - 17:39
ایرانی جوہری سائنسدان کے قتل سے ایک بار پھر دہشتگردی کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے مغربی ممالک کے دوہرے معیار کی پالیسی ظاہر ہوا؛ وہ ممالک جنہوں نے نعروں میں بھی اس واضح جرم کی مذمت کرنے سے انکار کردیا۔
خبر کا کوڈ: ۳۹۵۴
تاریخ اشاعت: 0:16 - December 06, 2020

ایران میں دھشتگردی کے حوالے سے مغربی ممالک کی دوغلی پالیسیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایٹمی سائنس دان اور وزارت دفاع ایران کی ریسرچ اینڈ انوویشن آرگنائزیشن کے سربراہ 'شہید "محسن فخریزادہ" کے قتل نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلیے مغربی ممالک کے دوہرے معیار کی پالیسی کا مظاہرہ کیا۔

ایران ان بین الاقوامی اداکاروں میں سے ایک ہے جو نہ صرف کئی بار غیر ملکی حملوں اور جارحیت کا شکار رہا ہے بلکہ ان کے سائنسدان کو ہمیشہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی جوہری سائنسدان کے قتل سے ایک بار پھر دہشتگردی کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے مغربی ممالک کے دوہرے معیار کی پالیسی ظاہر ہوا؛ وہ ممالک جنہوں نے نعروں میں بھی اس واضح جرم کی مذمت کرنے سے انکار کردیا۔

دشمن کا ایسے تخریب کارانہ اور دہشتگردانہ اقدامات کی وجہ ایران کی قومی پرامن جوہری صنعت کی کامیابیوں کو روکنے میں بے بسی ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک کے عہدیداروں کے رد عمل سے دہشت گردی کے سامنے مغرب کا دوہرا معیار ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے آل سعود کی قیادت میں عرب اتحاد کے ذریعہ یمن کے بے گناہ لوگوں کے قتل پر آنکھیں بند کرلی ہیں۔

صیہونی حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ وحشیانہ سلوک اور اس کی سرزمین پر قبضے کو مغرب خصوصا امریکہ نے ہمیشہ ہی منظور کیا ہے۔

اپنے ویٹو کے ذریعہ امریکہ نے صیہونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک کے اقدامات کو بار بار روک دیا ہے تاکہ سنہ 1972 سے اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل کی 40 سے زیادہ قراردادوں کے خلاف امریکہ اپنا ویٹو پاور کا استعمال کر سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی صہیونی حکومت کے تئیں خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یونیسکو سے دستبرداری ، اپنے سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس میں منتقلی، اور عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو بہتربنانا، صہیونی حکومت سے امریکی حمایت کی یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ ایک ایسی حکومت جو دنیا میں "ریاستی دہشت گردی" کا مظہر ہے۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں