اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ شرقی میں شامی حکومت مخالف مسلح گروہ، کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۴۹۰
تاریخ اشاعت: 17:58 - February 26, 2018

دہشت گردوں کی جانب سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ، روسمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزارت دفاع کے شام میں موجود ماہرین کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ شرقی میں غیر قانونی مسلح گروہ زہریلے ہتھیاروں کا استعمال کر کے اشتعال انگیز اقدامات انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بعد میں وہ شامی حکام پر الزام عائد کر سکیں کہ انہوں نے غوطہ شرقی میں عام شہریوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں-

روسی وزارت دفاع کے شام میں قائم مرکز کی اطلاعات کے مطابق غیر قانونی مسلح گروہ جنھوں نے غوطہ شرقی پر قبضہ کر رکھا ہے اس علاقے سے عام شہریوں کو باہر نہیں نکلنے دے رہے ہیں-

اطلاعات کے مطابق دہشت گرد گروہ جیش الاسلام نے جبہت النصرہ کے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر سیکڑوں خواتین اور بچوں کو اپنی بنائی ہوئی جیلوں میں قید کر رکھا ہے-

اس درمیان روس کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن شام میں طاقت کا استعمال کرنے کا بہانہ تلاش کر رہا ہے اور یہ فائربندی کے سمجھوتے کے منافی ہے-

روسی نائب وزیر دفاع نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ روس کو شام میں امریکا کے ذریعے طاقت کے استعمال کے خطرات پر تشویش لاحق ہے، کہا کہ واشنگٹن ایک بہانے کی تلاش میں ہے تاکہ اس کو بنیاد پر بنا کر وہ شام میں فوجی طاقت کا استعمال کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا اس طرح کا اقدام فائربندی کی خلاف ورزی ہو گا- روس کے نائب وزیرخارجہ ریابکوف نے کہا کہ دمشق کے خلاف طاقت کے استعمال کے خطرات نے ماسکو کو سخت تشویش میں ڈال دیا ہے-

ان کا کہنا تھا کہ ماسکو واشنگٹن سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شام میں فائربندی کی پاسداری کرے-

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے چوبیس فروری کو ایک قرارداد پاس کر کے شام میں تیس روزہ فائربندی پر اتفاق کیا ہے تاکہ غوطہ شرقی اور دیگر محصور علاقوں میں عام شہریوں تک انسان دوستانہ امداد پہنچائی جا سکے-

شام میں فائربندی کی یہ قرارداد ایک ایسے وقت منظور ہوئی ہے جب روس کے دباؤ میں القاعدہ، داعش اور جبہت النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کو اس فائربندی سے مستثنی رکھا گیا ہے-

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی فرانسیسی صدر میکرون اور جرمن چانسلر مرکل سے ٹیلی فونی گفتگو میں کہا ہے کہ شام میں تیس روزہ فائربندی کا اطلاق دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں پر نہیں ہو گا-

یاد رہے کہ غوطہ شرقی دمشق کا ایک اسٹریٹیجک مضافاتی علاقہ ہے جس کو شامی فوج دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانا چاہتی ہے کیونکہ دہشت گرد عناصر روزانہ اس علاقے سے دارالحکومت دمشق کے رہائشی علاقوں پر مارٹر گولوں اور راکٹوں سے حملہ کر کے عام شہریوں کا خون بہاتے ہیں-

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں