اپ ڈیٹ: 13 August 2022 - 17:01
وزیر خارجہ نے کہا کہ شہید سلیمانی کا قتل ایسا مسئلہ نہیں جسے کبھی بھی بھلایا جاسکے اور ہم شہید قاسم سلیمانی کے انتقام کو اپنی دو ٹوک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۵۶۹۵
تاریخ اشاعت: 14:58 - July 23, 2022

شہید قاسم سلیمانی کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے/امارت اور کویت کے سفرا تہران آئیں گےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے گزشتہ رات (جمعرات) میں نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی متوازن پالیسی، متحرک سفارتکاری اور عقلمندانہ باہمی عمل پر قائم ہے۔ نئی حکومت نے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون و دوطرفہ اشتراکَ عمل کو اپنی بنیادی ترجیحات میں رکھا ہوا ہے جبکہ موجودہ صدی کی نوظہور طاقت کے عنوان سے اور ایشیا میں موجود بے پناہ مواقع اور صلاحیتیوں کی وجہ سے اس خطے کے ساتھ باہمی تعاون پر توجہ مرکوز کرنا ہماری دیگر ترجیحات میں سے ہے۔ 

ہم نے کوشش کی ہے کہ ہمسایہ تعلقات کی ڈپلومیسی کے بند حصوں کو فعال کریں

انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے گزشتہ ١١ ماہ کے دوران صدر مملکت کے دوروں اور رفت و آمد پر توجہ کی ہوتو ہم نے ہمسایہ تعلقات کی ڈپلومیسی کے بند پڑئے ہوئے حصوں کو فعال کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ نئی حکومت کے آغآز پر ہم خارجہ پالیسی کو اس ضمن میں مطلوبہ حد تک متحرک نہیں سمجھتے تھے۔ 

اپنی کارکردگی کے حوالے سے ان کا کہنا کہ ہم نے نئی حکومت کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ اس حکومت میں وزارت خارجہ کا کم از کم ۴۰ فیصد کام معاشی سفارتکاری سے مخصوص ہوگا اور یہی امر پڑوسی ملکوں سے کاروباری حجم کے بڑھنے میں مددگار ثابت ہوا۔

وزیر خارجہ نے اپنی گفتو کو آگے بڑھاتے ہوئے ہمسایہ ملکوں سے باہمی تعاون کے نتائج کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ پڑوسیوں سے کاروباری معاملات سے ملک میں سرکاری اور پرائیوٹ سطح پر کافی زرمبادلہ آیا جبکہ ایران ٹرانزٹ کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس کے جیوپولیٹل محل وقوع کی وجہ سے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب کی جانب ٹرانزٹ لائنز فعال ہوگئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین جنگ کے بعد رونما ہونے والی تبدیلیوں اور کرونا سے پیدا ہونے والے اثرات کے بعد عالمی سطح پر اور ہمارے خطے کے ایک حصے میں فوڈ سیکورٹی اور توانائی کا معاملہ سنجیدہ نوعیت کی تشویش بن چکا ہے جبکہ ان دونوں ہی حوالوں سے ایران کی پوزیشن مضبوط ہے۔ ہم تیل و گیس کے عظیم ذخائر کے مالک ہیں اور فوڈ سیکورٹی کے معاملے میں ایران کی ٹرانزٹ لائن نے ایک بہترین صلاحیت فراہم کی ہے۔ 

سعودی عرب کی جانب سے پیغام دریافت کرنا

ایرانی وزیر خارجہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ سعودی عرب نے جنوری ۲۰١٦ کے بعد ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور بعض خلیجی ممالک نے بھی سعودی عرب کی دیکھا دیکھی سفارتی تعلقات کو سفیر سے ناظم الامور کی حد تک کم کردیا تھا۔ نئی حکومت نے اپنے کام کے آغاز میں جو اقدامت اٹھائے ان کے نتیجے میں خلیجی ممالک کو صدر مملکت کی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا گیا اور کوشسش کی گئی کہ ان ملکوں سے تعلقات کو تقویت دینے کے لئے قابل عمل اقدامات کے ذریعے ان ملکوں کی تمام سیاسی اور سفارتی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے۔

اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی کی سطح پر مذاکرات کے پانچ دور انجام دیئے گئے جبکہ گزشتہ ہفتے عراق کے وزیر خارجہ کی طرف سے پیغام موصول ہوا ہے کہ سعودی فریق نے آمادگی ظاہر کی ہے کہ مذاکرات کو سیکورٹی کے فیز سے سیاسی فیز میں داخل کردیا جائے اور ہم نے بھی اپنی آمادگی کا اعلان کیا کہ سیاسی سطح پر گفتگو آگے بڑھنی چاہئے اور حسب سابق سفارتی تعلقات کی طرف واپسی کا نتیجہ برآمد ہونا چاہئے۔

امارت اور کویت کے سفرا تہران آئیں گے

امیر عبداللہیان نے بتایا کہ امارات نے اپنا سفیر تہران بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے لہذا جلد ہی ان کا سفیر تہران آئے گا جبکہ کویت نے اپنے سفیر کی نامزدگی کا اعلان کردیا ہے اور آئندہ چند روز کے دوران کویت کا سفیر بھی تہران پہنچ جائے گا۔

اپنے مفادات کو مغرب اور مشرق کے ساتھ وابستہ نہیں کریں گے

امیر عبد اللہیان نے خارجہ پالیسی کے متعلق کہا کہ حکومت کی مغرب اور مشرق کے لئے خارجہ پالیسی ایک متوازن پالیسی کے گرد گھومتی ہے اور دنیا کے تمام خطوں کے ساتھ کام کرنا کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ اپنے مفادات کو ان امور سے جوڑیں گے جو ملک کے لئے سب زیادہ فائدہ مند ہوں، ہم اپنے مفادات کو مغرب یا مشرق کے ساتھ وابستہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک ہمسایہ روس جبکہ دوسرا ترکی ہے۔ یہ ہماری اہمیت و مقام ہے کہ ہمسایہ ممالک ہماری دعوت پر خصوصی توجہ ظاہر کرتے ہیں اور تین سال سے زائد عرصے تک نہ ہونے والا اجلاس تہران میں منعقد ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اگلے جلسے میں اس کی رکنیت سے حاصل ہونے والے فوائد ملنا شروع ہوجائیں گے۔

وزیر خارجہ نے بریکس پلس کی رکنیت کے عمل کے متعلق بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ ایران ان سرفہرست ممالک میں سے جن کو بریکس پلس کی رکنیت دی جارہی ہے۔ 

خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے

امیرعبداللہیان کا کہنا تھا کہ خطے کی صورتحال میں کم از کم حالیہ ایک دھائی میں ایران خطے کی مثبت صورتحال والے حصے میں رہا ہے جبکہ پہلا ملک جس نے یمن کی جنگ کے آغاز میں موقف اپنایا تھا کہ یمن کا واحد رہ حل سیاسی حل ہے، ایران تھا۔ ایران کی تمام تر کوششیں بھی اس امر پر مرکوز رہی ہیں یہاں تک آج سب اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ اس جنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس کا فیصلہ سیاسی طور پر ہی ہونا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان ملکوں کو اپنا امتحان سمجھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس ضمن میں محور مقاومت کہلانے والے ممالک کے درمیان ٹرانزٹ لائن ایجاد کرنا ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہے۔  

شہید قاسم سلیمانی کے انتقام کو اپنی دوٹوک ذمہ داری سمجھتے ہیں

انہوں نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے شہید جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے معاملے میں کہا کہ کہ شہید سلیمانی کا قتل ایسا مسئلہ نہیں جسے کبھی بھی بھلایا جاسکے اور ہم شہید قاسم سلیمانی کے انتقام کو اپنی دو ٹوک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہ مسئلہ اتنا گہرا ہے یہاں تک کہ صدر پیوٹن نے اپنے دورہ تہران کے دوران رہبر معظم انقلاب اور صدر مملکت سے ملاقات میں جنرل سیلمانی کے مقام اور کردار کے متعلق بات کی تھی۔ 

اس حوالے سے وزارت خارجہ نے بین الاقوامی قوانین کی پیروی کرنے والی کمیٹی مزید مکمل کر کے کام میں تیزی لائی ہے۔ ہماری عدلیہ سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور ہمیں اپنے اقدامات کے مطلوبہ نقطے تک پہنچنے کی امید ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں اٹھایا جانے والا ایک اقدام یہ ہے کہ اس کاروائی کا حکم دینے والے اور انجام دینے والے دونوں ہی دہشت گردی کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیئے ہیں اور جنہیں اس لسٹ میں رکھا گیا ہے چین کی نیند نہیں سو پا رہے ہیں۔ 

مائیک پومپیو کی سیکورٹی پر ۲ میلین ڈالر خرچ ہورہے ہیں

امیرعبداللہیان نے کہا کہ واسطوں کے ذریعے جو پیغام امریکہ کی طرف سے لایا گیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ پومپیو کی سیکورٹی کے لئے دو میلین ڈالر خرچ ہو رہے ہیں اور ڈیل کر کے حل کرنا چاہتے تھے جو ہم نے ٹھکرا دی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزارت خارجہ اور سفارتی مشن شہید قاسم سلیمانی کے خون کے انتقام کو اپنی دوٹوک ذمہ داری سمجھتا ہے۔ 

افریقہ اور لاطینی امریکہ

ایران کے وزیر خارجہ نے افریقہ اور لاطینی امریکہ کے لئے ایران کی پالیسی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑھے دس مہینوں کے دوران افریقہ سے ۴۷ رسمی وفود نے ایران کا دورہ کیا ہے اور مختلف معاہدے ہوئے ہیں۔ البتہ اس ضمن میں پرائیوٹ سیکٹر زیادہ آگے اور کامیاب ہوا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے مشترکہ کمیشن بٹھائے جا چکے ہیں اور ہم بہت اچھے باہمی سمجھوتے کئے ہیں اور تعاون و شراکت داری میں تیزی لائے ہیں۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک انجام پانے والے کام لازمی تھے تاہم کافی نہیں ہیں اور ہمیں مزید مضبوط قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ افریقہ اب بھی کورا براعظم ہے اور اس میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔  

لاطینی امریکہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں کے دوران لاطینی امریکہ میں تیل، توانائی، پیٹروکیمیکل، آئل ریفائنری کے شعبوں میں بہت سے اہم کام ہوئے ہیں اور فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے بھی بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان دونوں خطوں کو اہمیت دینا ہماری متوازن خارجہ پالیسی کے فریم ورک میں اہم ترجیحات کا حصہ ہیں چونکہ یہ دو خطے اب بھی قدرتی مواقع اور بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔

امیر عبد اللہیان کا کہنا تھا کہ البتہ یہ دو خطے دور افتادہ ہونے کے باوجود بھی ان کی ایران، انقلاب اور امام خمینی ﴿رہ﴾ کے حوالے سے ایک مختلف اور مخصوص نگاہ ہے جس نے ہمارے لئے ایک عظیم سرمایہ پیدا کیا ہے۔

مذاکرت کی تازہ ترین صورتحال

انہوں نے پابندیاں اٹھانے کے لئے ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ مذکرات کے حوالے سے موجودہ حکومت کا موقف اس طرح ہے کہ حکومت پائیدار معاشی ترقی کے منصوبے کو جوہری مذاکرات کو نظر میں لائے بغیرآگے بڑھائے۔ تاہم دوسری طرف وزارت خارجہ کو چاہئے کہ پابندیاں ختم کروانے کے لئے مذاکرات کی میز پر حاضر رہے کہ جو صرف ایک مذاکرہ نہیں بلکہ مذاکراتی مہم اور جنگ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اب ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں ہمارے سامنے ایک تیار شدہ متن موجود ہے جس کے 95 فیصد سے زیادہ مندرجات پر تمام فریقوں کے ساتھ ہمارا اتفاق نظر ہے تاہم اس متن میں اب بھی ایک اہم خامی ہے، وہ یہ ہے کہ ہمیں معاہدے کے تمام تر معاشی امتیازات و فوائد حاصل ہونے چاہئیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایک ہی سوراخ سے دو بار ڈسے جائیں۔ 

ہم ہر قیمت پر سمجھوتہ نہیں چاہتے 

امیر عبداللہیان نے کہا کہ جوہری معاہدے کے تمام تر فوائد حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ اپنے دعدوں اور ضمانتوں کو قبول کرے، ایسے نہیں ہوگا کہ کہیں عالمی معاہدوں میں ضمانت فراہم کرنا بے معنی ہے، معاہدہ عمل پیرا ہونے کے لئے لکھا جاتا ہے، ہمیں گھر کے طاقچوں میں فریم کرنے کے لئے تو معاہدے کی ضرورت نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ایک اچھے قوی اور پائیدار سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے سنجیدہ عزم رکھتے ہیں تاہم ہر قیمت پر سمجھوتہ نہیں چاہتے۔ ہم یورپی یونین اور بعض وزرائے خارجہ کے ذریعے پیغامات کے تبادلے میں امریکہ کہہ چکے ہیں کہ بہتر اور مثبت خصوصیات کا حامل سمجھوتہ چاہتے ہیں، اپنی کوششیں بھی جاری رکھیں گے جبکہ اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے ابھی تک امریکہ نے ہمیں مطمئن نہیں کیا ہے کہ ہمیں جوہری معاہدے کے تمام تر معاشی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

امیر عبد اللہیان نے زور دے کر کہا کہ اس فوائد کے حاصل ہونے کے کچھ معیارات ہیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کے ساتھ اور بالواسطہ امریکہ کے ساتھ پیغامات اور گفتگو کا تبادلہ کر رہے ہیں تا کہ ہمارے مد نظر معیارات محسوس اور مشخص طور پر کاغذ پر آجائیں اور ہم اعلان کرسکیں کہ سمجھوتے کے ایک بہتر نقطے پر ہیں۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں