اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
برطانیہ نے سابق روسی جاسوس پر اعصابی گیس کے حملے کی وضاحت پیش نہ کرنے پر 23 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کردیا۔
خبر کا کوڈ: ۷۷۳
تاریخ اشاعت: 22:01 - March 15, 2018

برطانیہ، 23 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلانمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق وزیراعظم تھریسا مے نے سیلسبری میں سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو اعصابی گیس کا نشانہ بنانے والے پسِ پردہ عناصر اور عوامل کی وضاحت نہ دینے پر 23 روسی سفارتکاروں کو برطانیہ سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے ان سفارتکاروں کو ایک ہفتے کے اندر اندر برطانیہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

تھریسا مے کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے روس سے اعلی سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور کوئی بھی برطانوی وزیر یا شاہی خاندان کا فرد روس میں فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرے گا۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے برطانوی اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا رویہ متکبرانہ ہے اور لندن نے معاملے پر تعاون کے لیے ماسکو کو باضابطہ درخواست نہیں دی۔

روس کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے روسی سفارت کاروں کو جاسوس قرار دینے اور ملک بدری کا جلد جواب دیا جائے گا۔

الزامات مسترد کرتے ہوئے روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اشتعال انگیز حملہ الیکشن سے پہلے روس کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے کیا گیا، برطانیہ کیمائی مادہ روس کو فراہم کرے۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے روس سے اعلیٰ سطح کے سفارتی تعلقات معطل کر دیئے ہیں۔ وزیراعظم تھریسا مے نے روس کے تمام 23 سفارتکاروں کو ایک ہفتے میں برطانیہ چھوڑنےکا حکم دیدیا۔

دونوں ممالک کےد رمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے باعث روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا طے شدہ دورۂ برطانیہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں