اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس ویانا میں ختم ہوگیا ہے ۔ اجلاس کے اختتام پر ایرانی وفد کے سربراہ اور نائب وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے کہاکہ اجلاس کے دوران امریکا کے مقابلے میں سبھی رکن ملکوں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ معاہدے کو باقی اور جاری رکھا جائے گا۔
خبر کا کوڈ: ۸۰۹
تاریخ اشاعت: 1:24 - March 18, 2018

جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے پر معاہدے کے فریق ملکوں کی تاکیدمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ویانا میں جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے اختتام پر ایران کے نائب وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اجلاس کا ماحول امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے پیدا کی گئی صورتحال سے متاثر تھا - ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران امریکا کے برخلاف سبھی فریق ملکوں نے اس بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کو جاری رکھنے کی پرزور حمایت کی ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی رویٹرز نیوزایجنسی کے اس دعوے کے جواب میں کہ یورپی ممالک ایران پر پابندیاں عائد کرنے کی سوچ رہے ہیں کہا کہ یورپی ممالک ایٹمی معاہدے کو باقی اور پابندیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے پہلے رویٹرز نے دعو کیا تھا کہ برطانیہ فرانس اور جرمنی نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایٹمی معاہدے میں باقی رکھنے کے لئے آمادہ کرنے کی غرض سے پیشکش کی ہے کہ ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جائیں -

ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ یورپی ملکوں کے حکام نے دوطرفہ ملاقاتوں میں بھی اور اجلاس کے دوران بھی واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے ساتھ ساتھ ختم کی گئی سبھی پابندیوں کو معطل رکھنے پر کاربند ہیں اور ایران کو چاہئے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے دورسے فائدہ اٹھائے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر بعض یورپی ملکوں نے امریکا کو خوش کرنے کے لئے ایران پر غیر ایٹمی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی تو وہ بہت بڑی غلطی کریں گے اور اس کے منفی اثرات براہ راست ایٹمی معاہدے پر پڑیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی ڈپٹی انچارج نے بھی اجلاس کے اختتام پر ویانا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سبھی فریق ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے اور پابندیوں کے معطل رہنے کی حمایت کررہے ہیں۔

یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی ڈپٹی انچارج ہلگا اشمیڈ نے کہاکہ آئی اے ای اے نے جو ایٹمی معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرار داد بائیس اکتیس کے مطابق ایٹمی معاہدے پر ایران کی جانب سے عمل درآمد کئے جانے کی نگرانی کی ذمہ دار ہے اپنی دس رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عمل کیا ہے۔

اس درمیان بین الاقوامی اداروں میں روس کے مندوب نے کہا ہے کہ ثبوت و شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکا نے ایٹمی معاہدے پر ابھی تک عمل نہیں کیا ہے ویانا میں روسی مندوب میخائل الیانوف نے کہا کہ امریکی نمائندے واضح طور پر یہ نہیں بتاسکے کہ وہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں مستقبل میں کیا لائحہ عمل رکھتے ہیں جبکہ دیگر سبھی ممالک کا اس بات پر مکمل اتفاق تھا کہ ایٹمی معاہد ے کو جاری رکھا جائے گا۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں