اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
سیدہ خاتون جنت کی پاکیزہ گود میں پرورش پانے والا حسین ؑ کیسے شریعت الٰہی پر ملوکیت کے سائے برداشت کرسکتا ہے؟ امام حسن ؑ جیسے کریم و شفیق اور امن کی علامت شخصیت کا بھائی حسین ؑ بھلا کیسے امت میں فتنہ و فساد برپا ہونے پر خاموش رہ سکتا ہے؟
خبر کا کوڈ: ۲۵۴۶
تاریخ اشاعت: 17:35 - September 21, 2018

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا یوم عاشور کی مناسبت سے پیغاممقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد 20ستمبر 201ء قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عاشورہ محرم الحرام کی مناسبت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ آغوش رسالت میں آنکھ کھولنے والا حسین ؑ کس طرح رسول اکرم کی نیابت کا حق دار نہیں ہوسکتا؟

امیر المومنین ؑ کے سایہ عاطفت میں تربیت پانے والا حسین ؑ کیسے امت کو فسق و فجور کے طوفان میں تنہا چھوڑ سکتا ہے؟ سیدہ خاتون جنت کی پاکیزہ گود میں پرورش پانے والا حسین ؑ کیسے شریعت الٰہی پر ملوکیت کے سائے برداشت کرسکتا ہے؟

امام حسن ؑ جیسے کریم و شفیق اور امن کی علامت شخصیت کا بھائی حسین ؑ بھلا کیسے امت میں فتنہ و فساد برپا ہونے پر خاموش رہ سکتا ہے؟ان تمام حوالوں کا حامل انسان اور عہدہ امامت جیسی ذمہ داری پر فائز شخص یقینا اپنا فریضہ سمجھتا ہے کہ جب وہ دیکھے کہ قرآنی احکامات کا تمسخر اڑایا جارہا ہو۔ اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالا جارہا ہو‘ شریعت الٰہی کی جگہ ملوکیت نافذ کی جارہی ہو اور دین اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی مہم جاری ہو، لاقانونیت ہو ،نا انصافی ہو اور بد عنوانی ہو تو اسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عظیم الہی او ر قرآنی فریضہ انجام دینا چاہیے اور اس فریضے کی بجاآوری امام عالی مقام کے سفر‘ جدوجہد اور شہادت کا سبب اور مرکز و محور تھی۔

علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ واقعہ کربلا کے پس منظر میںآفاقی اصول اور پختہ نظریات شامل ہیں۔واقعہ کربلا میں اس قدر ہدایت‘ رہنمائی اور جاذبیت ہے کہ وہ ہر دور کے ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس میںہر دور کے انسان کو اپنے مسائل کا حل ملتا ہے ۔

امام عالی مقام ؑ واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اوردنیا کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار‘ جاہ و حشم کے حصول‘ ذاتی مفادات کی خاطریا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازم سفر ہوئے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہاکہ روز عاشور سے قبل شب عاشور بھی اپنے اندر ایک الگ تاریخ کی حامل ہے جب امام عالی مقام نے عاشورا کے حقائق سے اپنے ساتھیوں ، جانثاروں اور بنو ہاشم کو آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ عاشورا برپا ہونے کی عملی شکل کیا ہوگی؟

اور اس میں کس کس کو کیا کیا قربانی دینا پڑے گی؟ آپؑ نے جب اپنے اصحاب و انصارکو عاشورا کی حقیقت یعنی اٹل موت سے باخبر کیا تو ساتھ ساتھ انہیں اپنے راستے کے انتخاب کی آزادی بھی فراہم کی اور کسی قسم کا حکم یا جبر اختیار نہیں کیا بلکہ انہیں اختیار دیا کہ وہ عاشورا کے راستے کا انتخاب کریں یا کربلا سے چلے جائیں۔

یہی وجہ ہے کہ شب عاشور جب چراغ گل کرایا گیا تو انسانوں کی تقسیم نہ ہوئی بلکہ ضمیروں کی شناخت ہوئی۔ کھوکھلے دعوﺅں کی بجائے نظریہ کی پختگی کا اندازہ ہوا اور چند لمحوں کی وابستگی دائمی نجات کی ضامن بن گئی۔

شب عاشور حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف سے لوگوں کو اپنی بیعت سے آزاد کرنا‘ شعور و نظریہ اور آزادی و استقلال کے ساتھ شہادت کے سفر پر گامزن ہونے کا درس دیتا ہے۔ آپؑ نے جبر کے ساتھ لوگوں کو اپنے ساتھ وابستہ نہ رکھ کر رہتی دنیا کے لئے ہدایت و رہنمائی چھوڑی کہ کشتیاں جلا کر لوگوں کو جبری شہادت کی طرف مجبور کرنا اور ہے جبکہ چراغ بجھا کر لوگوں کو ابدی نجات عطا کرنا اور ہے۔

آج کی صورت حال 61 ھ کی صورت حال کے ایک حد تک مشابہ ہے لیکن انداز و ماحول نیا ہے۔آج بھی حسین ؑ ابن علی کی صدائیں گونج رہی ہیں کہ کوئی آئے اور ہمارا ساتھ دے۔آئیے ہم حسین ؑ ابن علی ؑ کا ساتھ دیں اور ان کی صدا پر لبیک کہیں۔

احکام خداوندی اور شریعت نبوی پر عمل پیرا ہو کر اپنے اچھے اور مضبوط کردار کے ذریعے ‘ کردار سیدہ زینب ؑ اور سیرت حضرت زین العابدین ؑ پر عمل کے ذریعے ‘مشن حسین ؑ اور اسلام کے عادلانہ نظام کے لیے عملی جدو جہد کے ذریعے‘ دشمن کے عزائم اور مظالم سے اتحاد و اخوت اور وحدت کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے ذریعے ... اور اس راستے میںاگر مشکلات پیش آئیں حتی کہ شہادت کی سعادت بھی نصیب ہو تو اس کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھا جائے بلکہ حالات کا تقاضا ہے کہ ایک اور عاشورہ برپا کرنے کے لیے آمادہ رہا جائے....یہی ہر دور کا پیغام عاشور ہے۔  

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں