اپ ڈیٹ: 14 April 2021 - 20:56
قائد اسلامی انقلاب نے ایران اور عراق میں جنرل شہید سلیمانی اور شہید ابومہندس المہدی کی شاندار جنازے کی تقریب کے انعقاد کو امریکہ کے منہ پر پہلے زور دار طمانچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "سافٹ وئیر سے سامراجیت کے کھوکھلے تسلط پر قابو پانا" اور "امریکہ کو خطے سے نکال دینا" اس سے کہیں زیادہ سخت طمانچہ ہے۔
خبر کا کوڈ: ۴۰۰۳
تاریخ اشاعت: 23:52 - December 16, 2020

دشمن پر بھروسہ مت کریں اور قومی یکجہتی کا تحفظ کریں: ایرانی سپریم لیڈر کا قوم کو خطابمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ان خیالات کا اظہار حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے آج بروز بدھ کو شہید جنرل سلیمانی کے اہل خانوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے شہید جنرل سلیمانی کو امت مسلمہ اور ایرانی قوم کے ہیرو قرار دیتے ہوئے ان کے قتل میں ملوث عناصر سے بدلہ لینے پر زور دیا اور کہا کہ یقینا مناسب وقت پر ان کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہید جنرل سلیمانی نے جیتے جی کے دوران سمیت اپنی شہادت سے بھی سامراجیت کو شکست کا سامنا کیا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے خطے میں 7 ٹریلین ڈالر خرچ کیے لیکن ہمیں کچھ نہیں ملا اور بالآخر اندھیرے میں کئی گھنٹوں تک کسی فوجی اڈے پر جانے پر مجبور ہوا؛ ساری دنیا اس حقیقت پر واقف ہیں کہ امریکہ نے عراق اور شام میں کچھ حاصل نہیں کرسکا؛ تا ہم جنرل سلیمانی نے اپنے جیتے جی کے دوران شام اور عراق میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم کے مسائل کے حل اور ملک کے مستقبل کی تعمیر کیلئے دوسروں کے وعدوں پر بھروسہ نہ کریں؛ کیونکہ یہ اچھے وعدے نہیں ہیں بلکہ شریروں کے وعدے ہیں اور آپ کو دشمنیوں کو فراموش نہیں کرنی ہوگی۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے دور کے امریکہ اور اوباما کے دور امریکہ کی کارکردگی کو سب نے دیکھا ہے؛ دشمنی صرف ٹرمپ کے امریکہ کی نہیں ہے جو اس کے جانے کے بعد ختم ہوجائے گی، اوباما کے امریکہ نے بھی ایرانی قوم کیساتھ برا سلوک کیا؛ تین یورپی ممالک نے بھی انتہائی منافقت اور لالچ کا مظاہرہ کیا۔.

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پابندیاں درست، عقلمند، ایرانی- اسلامی اور باوقار طریقے سے اٹھائی جاسکتی ہیں تو یہ کرنا چاہئے لیکن اصل توجہ ان پابندیوں کو غیر موثر بنانا چاہئے جو آپ کے ہاتھ میں ہیں۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں