اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن کے بحران کو فوجی اور بمباری کے ذریعے سے نہیں بلکہ سیاسی عمل کے ذریعے سے ہی اس بحران کو حل کیا جاسکتا ہے.
خبر کا کوڈ: ۵۰۸
تاریخ اشاعت: 14:27 - February 27, 2018

بمباری یمن کے مسئلے کا حل نہیں: ایرانمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے سلامتی کونسل میں یمن کے بارے میں  روس کی مجوزہ قرارداد کی منظوری کے بعد  اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کے خلاف الزامات کو دہرایا جانا اور ایران فوبیا کا ڈرامہ رچانے کا اصل ہدف یمن پر جارحیت کرنے والوں کو مدد فراہم کرنا ہے.

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے یمن میں جاری جارحیت کی وجہ سے وہاں انسانی بحران پیدا ہوگیا جس سے سویلین آبادی بشمول بچوں اور عورتوں کو شدید غذائی قلت، بیماری اور قحط کی صورتحال اورمسائل ومشکلات کا سامنا ہے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کے روز یمن کے خلاف دو قراردادوں کے مسودے کا جائزہ لینے کیلئے بلایا گیا تھا۔

پہلی قرارداد برطانیہ نے ایران پر دباو ڈالنے کیلئے پیش کی تھی جس میں ایران پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ یمن کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے البتہ اس قرارداد کو روس نے ویٹو کردیا۔

دوسری قرارداد روسی تجویز پر پیش کی گئی تھی جس میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ فروری 2019 تک یمن پر ہتھیاروں کی پابندی کی مدت میں توسیع کی جائے جسے سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل ارکان کی رائے سے منظور کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ اور چند دوسرے عرب ممالک کی حمایت سے مارچ 2015 میں یمن پر جارحیت شروع کی جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد شہید و زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو گئے جبکہ یمن کے محاصرے کے بعد اس ملک میں انسانی المیہ رونما ہوا لیکن اس کے باوجود سعودی عرب اپنے مقاصد میں ناکام رہا ہے۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: