اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
روس نے یمن کے بحران کے سلسلے میں ایران کے خلاف الزام تراشیوں پر تنقید کرتے ہوئے برطانیہ کے ذریعے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔
خبر کا کوڈ: ۵۱۳
تاریخ اشاعت: 14:56 - February 27, 2018

برطانیہ کی ایران مخالف قرارداد کو روس نے ویٹو کر دیامقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں روس کے مندوب واسیلی نبنزیا نے پیر اور منگل کی درمیانی رات ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ یمن کے بحران کو ایک سیاسی حربہ نہیں بنایا جانا چاہئے اور نہ ہی اس بحران کو دیگر معاملات سے جوڑا جانا چاہئے۔

روسی مندوب نے کہا کہ صحیح ثبوت و معلومات کے بغیر الزام تراشی قابل قبول نہیں ہے- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی مندوب نے کہا کہ پابندیوں اور دھمکیوں کے علاوہ دیگر راستے بھی موجود ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکا ان راستوں اور طریقوں کو اہمیت نہیں دیتا-

چینی مندوب نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں جو یمن کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ہوا تھا، کہا کہ چین کو یمن کی صورت حال پر گہری تشویش لاحق ہے اور اس ملک میں پائیدار امن کا قیام صرف سیاسی طریقوں سے ہی ممکن ہے-

اقوام متحدہ میں برطانوی مندوب میتھیو ریکرافٹ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں دعوی کیا تھا کہ یمن میں ایران کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں اور ایران نے یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے لئے ہتھیاروں کی سپلائی کی بندش کے قانون پر عمل درآمد کرنے میں کوتاہی کی ہے-

  اقوام متحدہ میں فرانس کے مندوب نے بھی یمن پر سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پیرس انصاراللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی کی پابندی کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ایران کی مذمت کرتا ہے-

امریکی مندوب نکی ہیلی نے بھی برطانوی قراردار کو روس کی جانب سے ویٹو کر دیئے جانے کے بعد ایک بیان میں دھمکی دی کہ اگر ماسکو اس سلسلے میں اپنا ویٹو پاور استعمال کرتا رہے گا تو پھر واشنگٹن اور اس کے اتحادی کوئی اور راستہ تلاش کریں گے-

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر اور منگل کی درمیانی رات یمن کے خلاف دو قراردادوں کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس تشکیل دیا تھا-  روس نے برطانیہ کے ذریعے یمن کے بارے میں پیش کی گئی ایران مخالف قرارداد کو ویٹو کر دیا-

برطانیہ نے یہ قرارداد امریکا اور فرانس کی مدد سے تیار کی تھی جبکہ روس کی جانب سے پیش کی گئی دوسری قرارداد، جس میں صرف یمن کے لئے ہتھیاروں کی پابندی کی مدت میں توسیع کی بات کی گئی ہے سبھی ارکان کے مثبت ووٹوں سے منظور کر لی گئی-

اس قرارداد کے تحت یمن کے لئے فروری دو ہزار انیس تک ہتھیاروں کی ترسیل یا فراہمی پر پابندی عائد رہے گی-

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: