اپ ڈیٹ: 29 July 2021 - 03:34
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کابل حکومت کی کمزوری کی علامت نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ: ۵۹۸
تاریخ اشاعت: 22:14 - March 03, 2018

مذاکرات کی پیشکش کمزوری کی علامت نہیں، اشرف غنیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق کابل میں غیر ملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کا مقصد، ملک میں جاری جھڑپوں اور جنگ کا خاتمہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام برسوں سے جنگ اور بدامنی کا شکار رہے ہیں اور کابل حکومت کو امید ہے کہ اس کی امن پیشکش نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔

صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی پیشکش کابل حکومت کی کمزروی نہیں ہے کیونکہ طالبان نے افغانستان میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اضافے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن ایک انچ بھی اضافہ نہیں کر سکے۔

واضح ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے گزشتہ ہفتے کابل میں منعقدہ عالمی اجلاس کے دوران طالبان کو مذاکرات اور قومی دھارے میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی۔

طالبان نے حکومت افغانستان کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف ایک چال قرار دیا ہے۔

افغانستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری فوج اور طالبان کے درمیان گاہے بگاہے چھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں