اپ ڈیٹ: 21 January 2021 - 17:30
رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے بدھ کی سہ پہر کو حضرت امام رضا علیہ السلام کے زائروں اور عوام کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علاقائی تبدیلیوں اور متحرک اور مستحکم معیشت کے تعلق سے جامع تجزیہ پیش کیا۔
خبر کا کوڈ: ۸۹۵
تاریخ اشاعت: 22:08 - March 25, 2018

داعش کی تشکیل کا مقصد علاقائی قوموں کو داخلی جنگ میں مشغول رکھنا تھا: رہبر انقلاب اسلامیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں ملک میں جاری پیشرفت اور ترقی کو قابل قدر اور قابل تعریف قراردیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے انقلاب اور اسلامی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ترقی اور پیشرفت کی سمت گامزن ہے۔

آپ نے گذشتہ چآلیس برسوں کے دوران انقلاب کی شادابی و استحکام اور علاقے کے لئے امریکہ کے مذموم عزائم کے ناکام ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو سال گذرا ہے اس میں اسلامی جمہوریہ ایران نے ایرانی قوم کی عزت و اقتدار کا پرچم علاقے میں لہرایا اور تکفیریوں کی کمر توڑنے اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ۔ 

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے اس عظیم اقدام کے ساتھ ہی علاقے میں امریکیوں کے مذموم عزائم اور ناپاک ارادوں پر پانی پھیر دیا فرمایا کہ امریکی یہ چاہتے تھے کہ داعش جیسے شرپسند، ظالم اور ہتک حرمت کرنے والے گروہوں کو وجود میں لاکر علاقے کی قوموں کو داخلی جنگ میں الجھا دیا جائے اور ان کے ذہنوں کو غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی طرف سے موڑ دیا جائے۔ 

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے داعش کو سرکوب کرنے میں امریکی کردار کے بارے میں واشنگٹن کے دعووں اور پروپگنڈوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکیوں کے یہ دعوے جھوٹے ہیں کیوں کہ امریکی پالیسی یہ ہے کہ داعش اور اس جیسے گروہوں کو باقی رکھا جائے وہ بھی  اس طرح سے کہ وہ امریکیوں کے اختیار میں رہیں۔ لیکن امریکہ کو اپنی اس سازش میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔ چنانچہ ایران کی علاقائی پالیسیوں کو خطرہ ظاہر کرنے کے لئے امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی الزام تراشی بھی اسی تناظر میں قابل غور ہے۔ 

ان بیانات کی اہمیت اس وقت مزید اجاگر ہوجائے گی جب ایران کو نقصان پہنچانے کے مقصد سےعلاقے میں امن و استحکام کو درھم برھم کرنے کے امریکی اہداف پر توجہ کی جائے۔ 

امریکہ درحقیقت داعش کو نابود کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور وہ علاقے میں سلامتی اورامن کے قیام کی بھی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس حقیقت کی واضح مثال، افغانستان میں امریکہ کی سولہ سالہ موجودگی بتائی کہ جس نے اس طویل عرصے کے دوران نہ صرف افغان عوام کو سلامتی فراہم نہیں کی ہے بلکہ سیکورٹی کی صورتحال کو بدتر بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ چند عشروں کے دوران مغربی ایشیاء کے بعض علاقوں میں جو تنازعے بحران اور جنگیں مسلط کی گئیں ان کی منصوبہ بندی برہ راست یا بالواسطہ طور پر امریکہ نے ہی کی ہیں۔ 

امریکہ کے مشہور نظریہ پرداز نوام چامسکی ، امریکہ کے مداخلت پسندانہ اہداف کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: امریکہ بہت سی جنگوں اور بین الاقوامی تنازعات کا باعث، اور کودتا کے ذریعے حکومتوں کا تختہ پلٹنے کا عامل ہے جیسا کہ 1953 میں اس نے ایران کی قانونی حکومت کے خلاف کیا۔ 

ایرانی قوم نے ہر سال یہ ثا بت کر دکھایا ہے کہ وہ امریکی سازشوں کے مقابلے میں پرعزم اور کامیاب ہے۔ جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے میں سلامتی قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس کے بعد بھی ایسا ہی ہوگا۔ 

رہبر انقلاب اسلامی نے متحرک اور مستحکم معیشت کے بارے میں بھی اپنے خطاب میں فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ، تعلیمی ماہرین اور پڑھی لکھی افرادی قوت ، تیل اور گیس کے عظیم ذخائر نیز مختلف پیداواری شعبوں کے اعتبار سے ٹھوس صلاحیتوں اور گنجائشوں کا حامل ہے اور ان ہی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ہم نئے شمسی سال میں بھی پیشرفت کی مزید راہیں تیزی سے سر کریں گے اور درخشاں کامیابیاں حاصل کریں گے

رہبر انقلاب اسلامی نے نئے شمسی سال کو ایرانی مصنوعات کی حمایت سے موسوم کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سال کو ایرانی سامان کی حمایت کے سال کے نام سے موسوم کیا ہے اور ایرانی سامان کی حمایت ایرانی حکام اور ایرانی عوام دونوں کی ذمہ داری ہے۔

آپ نے فرمایا کہ اگر ہم ملک کی اندرونی پیداوار سے استفادہ کریں گے تو اس سے خود ایرانی قوم کو فائدہ پہنچے گا۔ اور مزاحمتی اقتصادی پالیسیوں کی طرف گامزن ہونے کے لئے اندرونی پیداوار کے استعمال پرزیادہ سے زیادہ توجہ  مبذول کرنی چاہیے۔ حرم امام رضا علیہ السلام میں رہبر انقلاب اسلامی نے جو اہم نکات بیان کئے ہیں وہ مستقبل کے لئے روڈ میپ ہیں اور علاقے میں امریکہ کے شرانگیز اہداف کے مقابلے میں ہوشیار اور خبردار رہنے کا باعث بھی ہیں۔    

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں