اپ ڈیٹ: 05 December 2020 - 00:07
پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں سیکیورٹی اہلکار انتخابی نتائج کی پولنگ اسٹیشن سے لے کر الیکشن کمیشن تک ترسیل میں کردار ادا کریں گے۔
خبر کا کوڈ: ۱۸۰۱
تاریخ اشاعت: 12:20 - July 09, 2018

پاکستان؛ انتخابی نتائج کی ترسیل کا ذمہ سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، الیکش کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے جاری کردہ نئے ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر فرائض کی انجام دہی کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار انتخابی نتائج کے فارم نمبر 45 جس میں ووٹوں کی گنتی کا اندراج کیا جاتا ہے، اور مرتب کردہ نتائج کی تصویر لے کر انتخابی نتائج کے ترسیلی نظام (آر ٹی ایس) کے ذریعے الیکشن کمیشن جبکہ متعلقہ پریزائنڈنگ آفیسر کے ذریعے ریٹرننگ آفیسر کو فراہم کریں گے۔

اس ضمن میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ’یہ بات یاد رکھیں کہ ہر امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کو قانون کے تحت پریزائڈنگ آفیسر سے فارم نمبر 45 (جس میں گنتی کے نتائج درج ہوں) اور فارم نمبر46 (جس میں بیلٹ پیپر کا اندراج ہو) کی نقل حاصل کرنے کی اجازت ہے‘۔

اسی طرح کوئی مبصر جو ووٹوں کی گنتی کے وقت موجود ہو، پریزائیڈنگ آفیسر سے مندرجہ بالا دونوں فارمز کی نقول حاصل کرسکتا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ پولنگ کے دوران کسی بھی بے قاعدگی، یا خلاف ضابطہ کوئی معاملہ پیش آنے کی صورت میں پریزئیڈنگ آفیسریا کسی اعلیٰ حکام کی ہدایت کے بغیر وہ خود سے کوئی بھی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

پولنگ اسٹیشن میں تعینات پاک فوج یا کسی اور ادارے کے سیکیورٹی اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی قسم کی بے ضابطگی کی صورتحال میں پریزائیڈنگ آفیسرکو مطلع کرنے کے پابند ہوں گے، اور صرف متعلقہ افسر کے احکامات کے مطابق ہی اس سلسلے میں کوئی کارروائی کر سکیں گے۔

تاہم اگر پریزائڈنگ آفیسر بے ضابطگی کو روکنے کےلیے خاطر خواہ اقدام نہیں کریں تواس بارے میں پاک فوج یا جس بھی ادارے کے سیکیورٹی اہلکار ہوں وہ اپنے اعلیٰ افسر کو اس بارے میں آگاہ کریں گے جوفوری طورپر معاملے سے متعلق ریٹرننگ افسر کو آگاہ کرے گا اور تفویض کردہ اختیارات کے تحت ایکشن بھی لے سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن میں نظم و ضبط برقرار رکھنا پریزائیڈنگ افسر کی ذمہ داری ہے، اور وہ کسی بھی ایسے شخص کو پولنگ اسٹیشن سے باہر کرسکتا ہے جو کسی بھی قسم کے غیر شائستہ فعل کا ذمہ دار ہو یا پریزائیڈنگ افیسر کے جائز احکامات کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔

اس سلسلے میں سیکیورٹی اہلکاروں کو مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ عمومی طور پر انتخابی عمل کے دوران اور خاص کر ووٹوں کی گنتی کے دوران مکمل غیر جانب داری کا مظاہرہ کریں، اور کسی بھی صورت میں کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت میں کوئی کام نہ کریں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی اہلکار کوئی بھی صورتحال پیش آنے کی صورت میں قانون پرعملدرآمد یقینی بناتے ہوئے ووٹرز اور پولنگ اسٹاف سے خوش اخلاقی اور تحمل کا برتاؤ کریں ۔

اس ضمن میں سیکیورٹی اہلکاروں کا اہم فریضہ یہ ہوگا کہ وہ انتخابی عمل کے دوران ووٹرز کے لیے پر امن، دوستانہ، محفوظ اور سازگار ماحول کو یقینی بنائیں بلکہ اس بات کا دھیان بھی رکھیں کہ پولنگ اسٹیشنز کے باہر کوئی بھی ووٹرز پر کسی بھی طرح اثر انداز نہ ہوسکے۔

اس کے علاوہ سیکیورٹی اہلکارہر ووٹر کی تلاشی لیں گے تا کہ اس بات یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی شخص اسلحہ یا اور کوئی ممنوعہ چیزاپنے ساتھ لے کر پولنگ اسٹیشن میں داخل نہ ہو، اور نہ ہی موبائل فون لے جاسکے جو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

ہدایت نامے میں اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ متعین مبصر اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ایک خاص وقت تک پولنگ اسٹیشن میں رہنے کی اجازت ہوگی، اس سلسلے میں صحافی حضرات ووٹنگ کے عمل اورگنتی کے عمل کی کیمروں سے عکس بندی کرسکتے ہیں لیکن وہ ووٹنگ باکس کی تصاویر نہیں بنا سکتے تاکہ بیلٹ کی رازداری برقرار رہے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ووٹر سے شناختی دستاویز یا ووٹنگ کی پرچی طلب نہیں کریں کیوں کہ یہ پریزائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داری ہے۔

اس کے ساتھ وہ ایسا کوئی بھی عمل نہیں کرسکتے جو پولنگ اسٹاف کی ذمہ داری ہو یا جس سے ان کے جانب دار ہونے کا تاثر قائم ہو۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ہدایت نامے کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کو بیلٹ پیپر، ٹھپے، سرکاری مہر، انتخابی فہرست اور بیلٹ باکسز سمیت کوئی بھی انتخابی مواد لے جانے کی اجازت نہیں۔

حتیٰ کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشن سے کسی فرد کو حراست میں لینے کا اختیار نہیں جب تک کہ پریزائیڈنگ افسر کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت نہ جاری کی گئی ہو۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں