اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
شام کے ساحلی شہر لاذقیہ پر اسرائیل کے ہوائی حملے کے بعد روس کا ایک فوجی طیارہ عملے کے چودہ ارکان کے ساتھ لاپتہ ہو گیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۵۱۱
تاریخ اشاعت: 21:56 - September 18, 2018

شام پر اسرائیلی حملے کے بعد روسی فوجی طیارہ لاپتہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، روسی وزارت دفاع نے منگل کے روز بتایا ہے کہ اس کا ایک ایلوشین طیارہ جس میں چودہ افراد سوار تھے شمال مغربی شام کے شہر لاذقیہ میں واقع حمیمیم کے فوجی اڈے میں قائم کنٹرول مرکز کے ریڈار سے غائب ہو گیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ یہ ہوائی جہاز اس وقت ریڈار سے غائب ہوا جب اسرائیل کے چار، ایف سولہ جنگی طیاروں نے لاذقیہ کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگوف نے اسرائیل کے وزیر جنگ سے کہا ہے کہ ماسکو اسرائیل کو اس سانحے کا پورا پورا ذمہ دار سمجھتا ہے ۔

سرگئی شویگوف نے اسرائیلی وزیر جنگ کو بتایا ہے کہ تل ابیب کے اقدامات کی وجہ سے پندرہ روسی شہریوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

شامی فوج نے بھی منگل کے روز ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے شمال مغربی صوبے لاذقیہ پر حملہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے کیا ہے۔

شامی فوج کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے لاذقیہ میں واقع ایک انڈسٹریل اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ سینٹر کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ بیان میں کے مطابق اس حملے میں مذکورہ سینٹر کو نقصان پہنچا ہے اور دو شامی شہری مارے گئے ہیں۔

شامی فوج کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام شامی فوج کے ہاتھوں پے در پے اور سنگین شکست کھانے کے بعد ادلب میں جمع ہو جانے والے دہشت گردوں کے پست حوصلے بلند کرنے کی ناکام کوشش ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل کے دہشت گردوں کے ساتھ براہ راست رابطے ہیں تاہم اس قسم کے ہتھکنڈوں سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شامی فوج کے عزم میں کوئی خلل واقع نہیں ہو گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

اسرائیل اب تک متعدد بار دہشت گردوں کی حمایت میں شامی فوجی کے ٹھکانوں پر حملے کر چکا ہے۔

شام کا بحران سن دو ہزار گیارہ میں امریکہ، سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے نتیجے میں شروع ہوا تھا اور اس بحران کا مقصد علاقائی حالات کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنا تھا۔

شامی فوج نے اسلامی جمہوریہ ایران کے فوجی مشاروت اور روس کی حمایت سے شام میں داعشی دہشت گردوں کی بساط لپیٹ دی ہے اور دیگر گروہ بھی اب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ اسرائیل شام میں دہشت گردوں کی شکست سے سخت پریشان ہے کیونکہ اس نے ان گروہوں پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں