اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اقوام متحدہ میں مظلوم یمنیوں کے خلاف ووٹ کرنے پرکہا کہ پاکستانی وزارت خارجہ اپنی پوزیشن واضح کرے۔
خبر کا کوڈ: ۲۷۱۶
تاریخ اشاعت: 19:23 - October 05, 2018

یمنیوں کے خلاف ووٹ دینے پرپاکستانی وزارت خارجہ سے جواب طلبمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یمن پر مسلط جنگ کے خلاف پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے سعودی امریکی اتحاد کی یمن پر مسلط کردہ جنگ کو عالمی بے توجہی کی وجہ سے دنیا کی فراموش شدہ جنگ اور موجودہ دنیا کا بدترین انسانی المیہ قرار دیا ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ غریب ترین عرب ملک پر مسلط کردہ جنگ چوتھے سال میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ ملک کی تین چوتھائی آبادی کو پانی، غذا اور دوا کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ سمندری، زمینی اور فضائی محاصرے کی وجہ سے ملک کی 70 فیصد آبادی کا سب سے بڑا مسئلہ ایک وقت کی خوراک کی فراہمی ہے۔ لاکھوں بچے غذا کی کمی کی وجہ سے مستقل معزور ہوچکے ہیں۔ دسیوں ہزار بے گناہ شہری فضائی حملوں کے نتیجہ میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اس انسانی المیہ جس کا واضح ذمہ دار سعودی عسکری اتحاد ہے، کی تحقیقات کی مدت میں توسیع کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جنہوں نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دے کر بالواسطہ طور پر حملہ آور اتحاد کی حمایت کی ہے، اس حمایت سے کشمیر اور فلسطین پر اپنے تاریخی موقف کو کمزور بھی کیا ہے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ نئی حکومت نے واضح موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے کسی تنازعہ کا فریق نہیں بنے گا۔ جناب وزیراعظم عمران خان صاحب نے سعودی عرب کے دورہ کے دوران دیئے گئے انٹرویو میں صراحت سے کہا تھا کہ پاکستان کا کردار یمن مسئلہ میں مصالحت کنندہ کا ہوگا اور ان کی نگاہ میں اس مسئلہ کا عسکری حل موجود نہیں اور نہ ہی وہ عسکری حل پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے امت مسلمہ کے تمام تنازعات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کے پاکستان کے رول کا اعادہ بھی کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان نے اس ووٹ کے ذریعے جہاں اپنی غیر جانبداری کو متاثر کیا ہے، وہاں ظالم کی حمایت کرکے کشمیر پر اپنے کیس کو کمزور بھی کیا ہے، جو نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کے بیان کردہ اصولوں کے منافی ہے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے مجلس وحدت اس ووٹ پر شدید تحفظات رکھتی ہے اور وزیراعظم اور وزارت خارجہ و وزارت انسانی حقوق سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ انسانی بنیادوں پر یمن کا محاصرہ ختم کیا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ راحیل شریف کی غیر قانونی اجازت کو کینسل کرکے ملیشیا کی طرح اس نام نہاد سعودی عسکری اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا جائے۔ راحیل شریف کی وجہ سے پاکستان کی غیر جانبداری اور امن پسندانہ کردار دونوں زیر سوال ہیں، لہذا ان کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں