اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ایک صیہونی تجزیہ نگار نے صیہونی حکومت کے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صیہونی وزیر اعظم غزہ میں فوجی تصادم سے خوفزدہ ہیں ۔
خبر کا کوڈ: ۲۹۴۰
تاریخ اشاعت: 18:51 - November 02, 2018

غزہ سے میزائل حملوں کا اسرائیل کیوں جواب نہیں دے پا رہا ہے؟؟؟مقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی اخبار ہارٹس کے فوجی امور کے تجزیہ نگار آموس ہارئیل نے کہا کہ نتن یاہو غزہ کی دلدل میں پھنسنے اور فوجی تصادم کی صورت میں کنٹرول کھو دینے کے اندیشے کی وجہ سے بہت خوفزدہ ہیں ۔

 انہوں نے اسرائیل کے بہت ہی قابل اعتماد فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو اس وقت کچھ بہت ہی فوری مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ غزہ میں فوجی تصادم کی صورت میں کنٹرول اسرائیل کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین پر ہونے والے وسیع میزائل حملے، صیہونی حکومت کے خفیہ شعبے کے اندازے کے بالکل بر خلاف تھے اور اسرائیلی وزیر جنگ اویگڈور لیبرمین نے جنہیں غزہ کی صورت سے نمٹنے کی کوئی امید نہیں ہے اور جن کا یہ خیال ہے کہ غزہ میں جلد ہی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کے حوالے سے احتمال ظاہر کیا کہ گزشتہ جمعے کو واپسی مارچ کا انعقاد بہت پر امن ہوگا لیکن ہوا اس کے برخلاف ۔

اسرائیلی اخبار ہارٹس کے فوجی امور کے تجزیہ نگار آموس ہارئیل نے کہا کہ گزشتہ  جمعے کو واپسی مارچ کے مظاہروں میں پانچ فلسطینی شہید ہوگئے جس کے بعد رات ہی کو جہاد اسلامی تنظیم نے نقب علاقے میں میزائل فائر کئے ۔ صبح 6 بجے تک اس نے مقبوضہ فلسطین پر 30 میزائل فائر کئے ۔ اس اسرائیلی تجزیہ نگار نے صیہونی فوج کا یہ بے بنیاد دعوی بھی دہرایا کہ جہاد اسلامی کا یہ میزائل حملہ، ایران کے حکم پر کیا گیا ہے ۔

ہارئیل نے صیہونی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر جنگ لیبرمین اور صیہونی حکومت کے سیکورٹی مشیر مئیر شابات کے درمیان بہت زیادہ اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں